
علی گڑھ، 18 جنوری (ہ س)۔
علی گڑھ کی تاریخی ریاستی صنعتی و زرعی نمائش کے مکتاکاش پنڈال میں ایک شاندار اور رنگا رنگ ثقافتی پروگرام“شامِ موسیقی”کا انعقاد کیا گیا، جس میں فن، ثقافت اور موسیقی کا خوبصورت امتزاج دیکھنے کو ملا۔ پروگرام کی صدارت معروف گلوکار جانی فوسٹر نے کی، جبکہ انجینئر محمد علی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ پروگرام کی نظامت پروگرام کوآرڈینیٹر عرفان انصاری نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی۔اس موقع پر کنور آصف،نشاط فاطمہ نے بطور مہمانِ اعزازی شرکت کی،پروگرام میں سونپری ڈانس اکیڈمی کی جانب سے نائشا سنگھ، ہرشیتا، ریا، کاویہ اور جیوتی نے مختلف گیتوں پر دلکش رقص پیش کیا، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔اسی طرح الشفاء پبلک اسکول کے طلبہ و طالبات خوشنما، زویا، عنزہ، آیت، علما، ماریہ، علیشا، صابرین، عنایہ، صبیحہ، ثانیہ، الشفاء اور عالیہ نے اپنی رنگا رنگ پیشکشوں سے محفل کو چار چاند لگا دیے۔
مشہور رقاص موہت چودھری نے ہریانوی اور راجستھانی گانوں پر شاندار رقص پیش کر کے سامعین کے دل موہ لیے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے موضوع پر سبرین، عنایہ، صاحبہ، ثانیہ، الشفاء، الفا اور مہک کی پُراثر پیشکش کو حاضرین کی جانب سے بے حد پذیرائی ملی۔تقریب کے دوران معروف گلوکار عتیق سحر کو ان کی موسیقی کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں“شہنشاہِ میلوڈی”کے خطاب سے نوازا گیا۔ ادبی حصے میں عالیہ سمیع نے اپنی شاعری پیش کی، جبکہ نور فاطمہ نے غزل سنا کر سامعین کو مسحور کر دیا۔آخر میں منتظمین نے تمام فنکاروں، مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی ایسے ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے رہیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ