
تل ابیب،18جنوری(ہ س)۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر نے اطلاع دی ہے کہ ’پیس کانفرنس‘ سے وابستہ غزہ کے لیے خصوصی ایگزیکٹو کمیٹی کی تشکیل کا اعلان اسرائیل کے ساتھ کسی ہم آہنگی کے بغیر کیا گیا ہے۔ دفتر نے اسے اسرائیل کی پالیسی کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ دفتر نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے امریکی وزیر خارجہ سے رابطہ کریں۔ دوسری جانب ویب سائٹ’یسرائیل ہیوم نے بتایا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی تشکیل سے باخبر تھا۔
غزہ کے انتظام کے لیے فلسطینی قومی کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے انکشاف کیا ہے کہ اس کمیٹی کی تشکیل فلسطینی عوام کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے اور قومی خواب کی تکمیل کے لیے غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان ایک بنیادی کڑی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کمیٹی 15 پیشہ ور، تکنیکی اور معتدل فلسطینی شخصیات پر مشتمل ہے۔ یہ شخصیات سیاسی گروہ بندیوں سے دور رہ کر پٹی کے اندر ترقیاتی، امدادی اور انسانی کاموں کا طویل تجربہ رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی مکمل طور پر غزہ کی تعمیرِ نو کے اس مصری منصوبے کے تحت کام کرے گی جس کی عرب لیگ، اسلامی ممالک اور یورپی یونین نے حمایت کی ہے۔ علی شعث نے امریکی انتظامیہ اور عطیہ دینے والے ان ملکوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دو سال کے لیے آپریشنل بجٹ فراہم کر دیا ہے۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب العربیہ/ الحدث کے ذرائع نے بتایا کہ علی شعث کی سربراہی میں کمیٹی نے اپنا پہلا اجلاس شروع کر دیا ہے۔ اس اجلاس میں کام کے واضح طریقہ کار اور آئندہ مرحلے کی ایگزیکٹو فائلوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ بین الاقوامی ثالثوں کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد پٹی کے اندر شہری امور اور بنیادی سہولیات کی ذمہ داریاں سنبھالی جا سکیں۔ یہ اجلاس مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل مکمل ہونے کے اعلان کے ایک دن بعد ہوا۔ اس کمیٹی کو ان تینوں ملکوں نے استحکام برقرار رکھنے اور غزہ میں انسانی صورتحال بہتر بنانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ کمیٹی کی تشکیل کا اعلان قاہرہ میں متعدد فلسطینی دھڑوں اور قوتوں کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔
واضح رہے امریکہ آنے والے دنوں میں امن کونسل کی تشکیل کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی اور تعمیرِ نو کی کوششوں کی حمایت کے لیے کیا تھا۔ اس سے قبل بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں درپیش رکاوٹوں کی وجہ سے اس اعلان میں تاخیر ہوئی تھی۔ یاد رہے جنگ بندی معاہدے کو اب بھی چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ حماس اور اسرائیل ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ 10 اکتوبر کو اس کے نفاذ کے بعد سے ہلاکتوں اور زخمی ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan