موسیٰ ندی بیوٹیفکیشن، متاثرین کو نقد نہیں، اب ٹی ڈی آر میں ملے گا معاوضہ — حکومت کا نیا جی او جاری
موسیٰ ندی بیوٹیفکیشن، متاثرین کو نقد نہیں، اب ٹی ڈی آر میں ملے گا معاوضہ — حکومت کا نیا جی او جاری حیدرآباد، 18 جنوری (ہ س)۔ موسیٰ ندی کی خوبصورتی میں اضافے کے منصوبے پر حکومت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ماضی میں موسیٰ ندی کے اطراف
حیدرآباد، 18 ۔ جنوری (ہ س)۔ موسیٰ ندی کی خوبصورتی میں اضافے کے منصوبے پر حکومت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ماضی میں موسیٰ ندی کے اطراف واقع کئی غریب بستیوں کے مکانات منہدم کیے جاچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شہر کے مختلف علاقوں میں حیڈرا (HYDRA) کے تحت جھیلوں کی ترقی کے نام پر پٹہ زمینوں کے حصول پربھی شدید تنازعات سامنے آئے ہیں۔اس پس منظر میں چیف منسٹر اے۔ ریونت ریڈی نے کئی مرتبہ یقین دہانی کرائی تھی کہ موسیٰ ندی بیوٹی فکیشن منصوبے میں زمین یامکان کھونے والوں کو بڑے پیمانے پر معاوضہ دیا جائے گا۔ تاہم حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ متاثرین کو براہ راست نقد رقم کے بجائے ٹی ڈی آر ٹرانسفریبل ڈیولیپمنٹ رائٹس(Transferable Development Rights) کی شکل میں معاوضہ فراہم کیاجائے گا۔ اسی سلسلے میں حکومت نے نیا جی او نمبر 16 جاری کرتے ہوئے سال 2012 کے جی او168 میں ترمیم کی ہے۔ نئے ضابطوں کے مطابق اگر جھیلوں یا ندیوں کے ایف ٹی ایل یا ایم ایف ایل حدود میں موجود پٹہ زمین حکومت کے حوالے کی جاتی ہے تو اس کے بدلے زمین کے رقبے کے مطابق 200 فیصد ٹی ڈی آر دیا جائے گا۔اسی طرح بفر زون میں زمین دینے والوں کو 300 فیصد ٹی ڈی آر جبکہ نالوں کی توسیع یا عوامی ضروریات کے لیے بفرزون کے باہرزمین دینے والوں کو 400 فیصد ٹی ڈی آر فراہم کیا جائے گا۔حکومت نے زمین دینے والے مالکان کو تعمیرات میں خصوصی رعایتیں دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اگر کوئی مالک اپنی پٹہ زمین حکومت کے حوالے کرتا ہے تو اسے باقی زمین پر اضافی منزلیں تعمیر کرنے یا سیٹ بیک میں رعایت حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ہائی رائز عمارتوں میں دسویں منزل کے بعد تعمیر ہونے والے حصے میں دس فیصد ٹی ڈی آر استعمال کرنا لازمی ہوگا۔ٹی ڈی آرجاری کرنے سے قبل محکمہ آبپاشی اور محکمہ ریونیو سے ایگزیکٹو انجینئر یا ایڈیشنل کلکٹر سطح کے افسران کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ ایک ایکڑ سے زیادہ زمین کے معاملات میں حکومت کی پیشگی اجازت ضروری ہوگی۔ متنازعہ زمینوں کے لیے ٹی ڈی آر براہ راست دینے کے بجائے ٹی ڈی آربینک میں محفوظ رکھا جائے گا۔یہ تمام ضابطے حیڈرا، جی ایچ ایم سی اورایچ ایم ڈی اے کے تحت چلنے والے تمام جھیل ترقی منصوبوں پر لاگو ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ زمین مالکان کے حقوق کا تحفظ بھی ہے۔ادھر موسیٰ ندی بیوٹی فکیشن منصوبے پر پہلے ہی خدشات ظاہر کیے جارہے تھے کہ حکومت ندی کے دونوں کناروں سے ایک ایک کلومیٹر تک زمین حاصل کرے گی۔ چونکہ اس علاقے میں لاکھوں تعمیرات موجود ہیں، اس لیے اب ٹی ڈی آر میں 400 فیصد تک اضافے سے یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ حکومت بفر زون کے باہر کی زمینیں بھی حاصل کرنے کے ارادے میں ہے۔دوسری جانب حیڈرا کے تحت جھیلوں کی ترقی کے دوران بھی کئی مقامات پر پٹہ زمینیں حاصل کی جارہی ہیں جس سے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ سُنّم چیرو جھیل کے اطراف سی آئی ای ٹی کالونی کے مکین عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔ تازہ ترمیمی جی او کے بعد حکومت کے لیے متاثرین کو ٹی ڈی آر کے ذریعے معاوضہ دینے کاراستہ ہموار ہوگیاہے۔ ہندوستھان سماچار


موسیٰ ندی بیوٹیفکیشن، متاثرین کو نقد نہیں، اب ٹی ڈی آر میں ملے گا معاوضہ — حکومت کا نیا جی او جاری

حیدرآباد، 18 جنوری (ہ س)۔

موسیٰ ندی کی خوبصورتی میں اضافے کے منصوبے پر حکومت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ماضی میں موسیٰ ندی کے اطراف واقع کئی غریب بستیوں کے مکانات منہدم کیے جاچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شہر کے مختلف علاقوں میں حیڈرا (HYDRA) کے تحت جھیلوں کی ترقی کے نام پر پٹہ زمینوں کے حصول پربھی شدید تنازعات سامنے آئے ہیں۔اس پس منظر میں چیف منسٹر اے۔ ریونت ریڈی نے کئی مرتبہ یقین دہانی کرائی تھی کہ موسیٰ ندی بیوٹی فکیشن منصوبے میں زمین یامکان کھونے والوں کو بڑے پیمانے پر معاوضہ دیا جائے گا۔ تاہم حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ متاثرین کو براہ راست نقد رقم کے بجائے ٹی ڈی آر ٹرانسفریبل ڈیولیپمنٹ رائٹس(Transferable Development Rights) کی شکل میں معاوضہ فراہم کیاجائے گا۔

اسی سلسلے میں حکومت نے نیا جی او نمبر 16 جاری کرتے ہوئے سال 2012 کے جی او168 میں ترمیم کی ہے۔ نئے ضابطوں کے مطابق اگر جھیلوں یا ندیوں کے ایف ٹی ایل یا ایم ایف ایل حدود میں موجود پٹہ زمین حکومت کے حوالے کی جاتی ہے تو اس کے بدلے زمین کے رقبے کے مطابق 200 فیصد ٹی ڈی آر دیا جائے گا۔اسی طرح بفر زون میں زمین دینے والوں کو 300 فیصد ٹی ڈی آر جبکہ نالوں کی توسیع یا عوامی ضروریات کے لیے بفرزون کے باہرزمین دینے والوں کو 400 فیصد ٹی ڈی آر فراہم کیا جائے گا۔حکومت نے زمین دینے والے مالکان کو تعمیرات میں خصوصی رعایتیں دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اگر کوئی مالک اپنی پٹہ زمین حکومت کے حوالے کرتا ہے تو اسے باقی زمین پر اضافی منزلیں تعمیر کرنے یا سیٹ بیک میں رعایت حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ہائی رائز عمارتوں میں دسویں منزل کے بعد تعمیر ہونے والے حصے میں دس فیصد ٹی ڈی آر استعمال کرنا لازمی ہوگا۔

ٹی ڈی آرجاری کرنے سے قبل محکمہ آبپاشی اور محکمہ ریونیو سے ایگزیکٹو انجینئر یا ایڈیشنل کلکٹر سطح کے افسران کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ ایک ایکڑ سے زیادہ زمین کے معاملات میں حکومت کی پیشگی اجازت ضروری ہوگی۔ متنازعہ زمینوں کے لیے ٹی ڈی آر براہ راست دینے کے بجائے ٹی ڈی آربینک میں محفوظ رکھا جائے گا۔یہ تمام ضابطے حیڈرا، جی ایچ ایم سی اورایچ ایم ڈی اے کے تحت چلنے والے تمام جھیل ترقی منصوبوں پر لاگو ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ زمین مالکان کے حقوق کا تحفظ بھی ہے۔ادھر موسیٰ ندی بیوٹی فکیشن منصوبے پر پہلے ہی خدشات ظاہر کیے جارہے تھے کہ حکومت ندی کے دونوں کناروں سے ایک ایک کلومیٹر تک زمین حاصل کرے گی۔ چونکہ اس علاقے میں لاکھوں تعمیرات موجود ہیں، اس لیے اب ٹی ڈی آر میں 400 فیصد تک اضافے سے یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ حکومت بفر زون کے باہر کی زمینیں بھی حاصل کرنے کے ارادے میں ہے۔دوسری جانب حیڈرا کے تحت جھیلوں کی ترقی کے دوران بھی کئی مقامات پر پٹہ زمینیں حاصل کی جارہی ہیں جس سے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ سُنّم چیرو جھیل کے اطراف سی آئی ای ٹی کالونی کے مکین عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔ تازہ ترمیمی جی او کے بعد حکومت کے لیے متاثرین کو ٹی ڈی آر کے ذریعے معاوضہ دینے کاراستہ ہموار ہوگیاہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande