مدھیہ پردیش میں شدید سردی
بھوپال، 18 جنوری (ہ س)۔ پہاڑی علاقوں میں ہو رہی برف باری اور شمال سے آ رہی ٹھنڈی ہواوں کے سبب مدھیہ پردیش میں سردی کا اثر مزید تیز ہو گیا ہے۔ ریاست کے شمالی حصوں میں کوہرا چھایا ہوا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں برف
سردی فائل فوٹو


بھوپال، 18 جنوری (ہ س)۔ پہاڑی علاقوں میں ہو رہی برف باری اور شمال سے آ رہی ٹھنڈی ہواوں کے سبب مدھیہ پردیش میں سردی کا اثر مزید تیز ہو گیا ہے۔ ریاست کے شمالی حصوں میں کوہرا چھایا ہوا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں برف باری کے سبب وہاں سے ٹھنڈی ہوائیں میدانی علاقوں کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ ہفتہ کو شمال مشرقی ہندوستان کے اوپر سطح سمندر سے 12.6 کلومیٹر کی اونچائی پر تقریباً 269 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ’جیٹ اسٹریم‘ فعال رہی، جس کا اثر مدھیہ پردیش میں بھی دیکھنے کو ملا۔ اسی وجہ سے سردی اور ٹھنڈ ہواوں کا اثر بڑھا۔ میہر، کٹنی، امریا، شہڈول اور انوپ پور میں دن بھر ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہیں۔ بھوپال اور شہڈول-ریوا ڈویژن میں ٹھٹھرن بڑھ گئی ہے۔ ریاست میں شہڈول ضلع سب سے ٹھنڈا رہا۔ ہفتہ کی رات یہاں کلیان پور میں کم از کم درجہ حرارت گر کر 3 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ شہڈول کے بعد عمریا ریاست کا دوسرا سب سے ٹھنڈا ضلع رہا، جہاں کم از کم درجہ حرارت 4.8 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔

بڑے شہروں میں بھی گرا درجہ حرارت

ریاست کے پانچ بڑے شہروں میں بھوپال کا کم از کم درجہ حرارت 7.4 ڈگری، اندور کا 9 ڈگری، گوالیار کا 8.2 ڈگری، اجین کا 10 ڈگری اور جبل پور کا 8.3 ڈگری سیلسیس رہا۔ وہیں امریا کے بعد راج گڑھ اور کھجوراہو میں 5 ڈگری، منڈلا میں 5.4 ڈگری، ریوا میں 5.5 ڈگری، نوگاوں میں 5.6 ڈگری اور پچمڑھی و دتیا میں 6.6 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ وہیں، ریاست کے 25 شہروں میں درجہ حرارت 10 ڈگری سے نیچے درج کیا گیا ہے۔

آج اتوار کی صبح گوالیار، بھنڈ، دتیا، ٹیکم گڑھ، نیواڑی، چھترپور، پنا، ستنا اور ریوا میں درمیانہ کوہرا دیکھنے کو ملا۔ بھوپال، اندور، اجین، رائسین، سیہور اور ودیشا سمیت کئی اضلاع میں ہلکا کوہرا چھایا رہا۔ کوہرے کی وجہ سے دہلی سے مدھیہ پردیش آنے والی ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ خاص طور پر مالوا، جہلم اور سچ کھنڈ ایکسپریس پر زیادہ اثر پڑا ہے۔

محکمہ موسمیات کا اندازہ ہے کہ 19 جنوری اور 21 جنوری کی رات سے دو ’ویسٹرن ڈسٹربنس‘ شمال مغربی ہندوستان کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ راجستھان کے اوپر فعال ’سائیکلونگ سرکولیشن‘ کا اثر بھی مدھیہ پردیش میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اس کے سبب 22 اور 23 جنوری کے بعد ریاست کے کچھ حصوں میں ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande