شمسی توانائی کے بڑھتے شعبے سے روایتی توانائی کے وسائل پر انحصار دنوں دن کم ہو رہا ہے: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو
شمسی توانائی کے بڑھتے شعبے سے روایتی توانائی کے وسائل پر انحصار دنوں دن کم ہو رہا ہے: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو بھوپال، 18 جنوری (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش شمسی توانائی کے شعبے میں آگے بڑھتے ہوئے روایتی توانائی کے وس
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو فائل فوٹو


شمسی توانائی کے بڑھتے شعبے سے روایتی توانائی کے وسائل پر انحصار دنوں دن کم ہو رہا ہے: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو

بھوپال، 18 جنوری (ہ س)۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش شمسی توانائی کے شعبے میں آگے بڑھتے ہوئے روایتی توانائی کے وسائل پر اپنا انحصار دنوں دن کم کرتا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اتوار کو میڈیا کو جاری پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں سال 2070 تک ’کاربن فٹ پرنٹ‘ کو صفر تک لانے اور ختم ہوتے ’فوسل فیول‘ کے متبادل تلاش کرنے کے لیے سال 2030 تک 500 گیگا واٹ جدید اور قابل تجدید توانائی کی پیداوار کا شاندار ہدف مقرر کیا ہے۔ اس قومی ہدف کو حاصل کرنے میں مدھیہ پردیش مکمل لگن اور عزم کے ساتھ تعاون دے رہا ہے۔ ریاست میں گزشتہ 12 برسوں میں جدید اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں 14 فیصد غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے اب کل توانائی کی پیداوار میں حصہ داری 30 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے گزشتہ سال ہوئی ’گلوبل انویسٹرس سمٹ‘ بھوپال میں شمسی توانائی کے شعبے میں ملک میں مدھیہ پردیش کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست فی الحال تقریباً 31 ہزار میگاواٹ کی بجلی پیداوار کی صلاحیت رکھتی ہے، جس میں سے 30 فیصد ’گرین انرجی‘ ہے۔ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ مدھیہ پردیش کے ’ریوا سولر پارک‘ اور ملک کے سب سے بڑے ’اومکاریشور فلوٹنگ سولر پلانٹ‘ کا بھی ذکر پورے ملک میں ہو رہا ہے۔ اس سے قابل تجدید توانائی کی پیداوار کو نئی سمت ملی ہے۔

مدھیہ پردیش ملک کی پہلی ریاست ہے، جس نے ’ٹیکنالوجی ایگنوسٹک رینیوایبل انرجی پالیسی‘ نافذ کی ہے۔ اس پالیسی میں شمسی اور پون توانائی کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کاروں کو سازگار اور لچکدار مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جس سے توانائی کی پیداوار کے شعبے میں نئی جہت جڑ رہی ہے۔ مدھیہ پردیش اپنے جغرافیائی محل وقوع اور قدرتی وسائل کی کثرت کے سبب ملک کی سرکردہ ’انرجی سرپلس‘ ریاستوں میں سے ایک ہے۔ ریاستی حکومت ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کی خود کفالت کو ترجیح دیتے ہوئے جدید اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں مسلسل کوشاں ہے۔

مدھیہ پردیش ’گرین انرجی ہب‘ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ فی الحال ریاست میں 5 بڑے شمسی پروجیکٹ چل رہے ہیں، جن کی کل پیداواری صلاحیت 2.75 گیگا واٹ (2,750 میگاواٹ) ہے۔ حکومت کا منصوبہ سال 2030 تک قابل تجدید توانائی کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر 20 گیگا واٹ (20,000 میگاواٹ) کرنے کا ہے۔ قابل تجدید توانائی میں 5.72 لاکھ کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کاری سے 1.4 لاکھ سے زیادہ روزگار کے مواقع دستیاب ہوں گے۔ مدھیہ پردیش حکومت قابل تجدید توانائی کے شعبے میں 5.21 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کر رہی ہے، جس سے 1.46 لاکھ روزگار پیدا ہوں گے۔ ریاستی حکومت کی یہ پہل ہندوستان کے ’نیٹ زیرو کاربن ہدف سال 2070‘ کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ مدھیہ پردیش تیزی سے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ملک کا رہنما بن رہا ہے اور ’آتم نربھر بھارت‘ اور ’سوچھ انرجی مشن‘ میں سرکردہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande