امریکی فوجیوں کے اڈے سے انخلاءکے بعد عراق نے فوجی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا
بغداد،18جنوری(ہ س)۔عراق میں سالہا سال سے قائم امریکی فوجی اڈے عین الاسد ایئربیس سے امریکی فوجیوں کے انخلائ کے ساتھ ہی عراقی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ عراقی فوج نے اس اڈے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔یہ امریکی فوجی اڈہ جس پر سینکڑوں عراقی
امریکی فوجیوں کے اڈے سے انخلاءکے بعد عراق نے فوجی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا


بغداد،18جنوری(ہ س)۔عراق میں سالہا سال سے قائم امریکی فوجی اڈے عین الاسد ایئربیس سے امریکی فوجیوں کے انخلائ کے ساتھ ہی عراقی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ عراقی فوج نے اس اڈے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔یہ امریکی فوجی اڈہ جس پر سینکڑوں عراقی فوجی کئی سال تک موجود رہے ہیں عراق کے مغربی حصے میں قائم تھا۔

تاہم 2024 میں امریکہ و عراق کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا تھا۔ جس کے تحت امریکہ نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اس کے زیر قیادت اتحادی افواج عراق کا یہ فوجی اڈہ واپس کر کی چلی جائیں گی۔مختلف ذرائع کے مطابق اس اڈے پر 2700 کے قریب امریکی و اتحادی فوجی موجود تھے۔ مگر پچھلے برسوں میں یہ تعداد بڑھنے کی اطلاعات بھی آئیں جب غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران اس اڈے کو علاقائی گروپوں سے خطرہ درپیش ہوا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا منصوبہ تیار ہوا۔ادھر شام میں بھی امریکی فوجی اڈے پر لگ بھگ ایک ہزار فوجی نفری کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande