
تہران،18جنوری(ہ س)۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک ایسے سیل کو گرفتار کر لیا ہے جس پر اہواز میں بدامنی پھیلانے، دھماکوں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق گرفتار افراد پر اہواز میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے، مذہبی مراکز کو نشانہ بنانے، امنِ عامہ میں خلل ڈالنے اور عوام میں خوف اور دہشت پھیلانے کے الزامات ہیں۔اس سے قبل تہران کے پراسیکیوٹر جنرل علی صالحی نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں زیر حراست مظاہرین کے خلاف سزائے موت پر عمل درآمد منسوخ کیے جانے سے متعلق بیانات کی کوئی بنیاد نہیں۔
علی صالحی نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ احتجاج سے جڑے مقدمات سے سختی اور تیزی کے ساتھ نمٹتی رہے گی۔انہوں نے وضاحت کی کہ احتجاج سے متعلق بڑی تعداد میں مقدمات میں فرد جرم عائد کی جا چکی ہے اور ان مقدمات کو متعلقہ عدالتوں میں سماعت کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ویب سائٹ پولیٹیکو کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ اب ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آ چکا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے حکمران جبر اور تشدد پر انحصار کرتے ہیں اور رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کو چاہیے کہ وہ ملک کو درست طریقے سے چلائیں اور لوگوں کو قتل کرنا بند کریں۔امریکی صدر نے پولیٹیکو سے گفتگو میں کہا کہ خامنہ ای کی ناقص قیادت کے باعث ایران دنیا میں رہنے کے لیے بدترین جگہ بن چکا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan