
واشنگٹن،18جنوری(ہ س)۔واشنگٹن اور تہران کے درمیان گذشتہ دنوں عروج پر پہنچنے والی کشیدگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک خفیہ پیغام نے خطے کو ایک بڑی عسکری کارروائی سے بچا لیا۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے کے وسط میں ایک ایسی رات آئی جب پورا خطہ شدید اضطراب میں مبتلا تھا، تاہم ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے بھیجا گیا ایک خفیہ ٹیکسٹ پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی حملوں کا حکم دینے سے روکنے کا باعث بنا۔رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ کارروائی ایران میں عوامی احتجاج کو کچلنے کے ردعمل میں کی جانی تھی، تاہم آخری لمحے میں حالات نے نیا رخ اختیار کر لیا۔
ہفتے کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کی مقرر کردہ سرخ لکیر عبور کیے جانے کے بعد جو مظاہرین کے تحفظ سے متعلق تھی، جوابی کارروائی کے لیے اپنی عسکری تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ان تیاریوں میں سینٹرل کمانڈ کے دائرہ کار میں آنے والے علاقے کی جانب جنگی بحری جہازوں کی ازسرنو تعیناتی اور قطر میں واقع العدید بیس پر الرٹ کی سطح میں اضافہ شامل تھا۔ اسی دوران سی آئی اے کے سربراہ نے صدر ٹرمپ کو خفیہ زمینی رپورٹس اور ویڈیو فوٹیج سے آگاہ کیا، جن میں ایرانی مظاہرین کے خلاف اقدامات کی تفصیل موجود تھی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پس پردہ رابطے کے ایک ذریعے کا سہارا لیتے ہوئے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ایک ٹیکسٹ پیغام بھیجا۔اس پیغام میں ایران کی جانب سے مظاہرین کے قتل کو فوری طور پر روکنے اور احتجاجی تحریک کے تقریباً 800 گرفتار رہنماو¿ں کے خلاف طے شدہ سزاو¿ں کو منسوخ کرنے کی غیر متوقع یقین دہانی کرائی گئی۔امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس پیغام نے صورتحال کو دھماکہ خیز رخ اختیار کرنے سے روک دیا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے فوجی کارروائی مو¿خر کرنے کا فیصلہ کیا اور بعد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم دیکھیں گے اور انتظار کریں گے، ساتھ ہی یہ بھی اشارہ دیا کہ انہیں دوسرے فریق کی جانب سے تشدد رکنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کے اندر شدید اختلافات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ایک جانب سخت گیر حلقے ایران کو کمزور کرنے کے لیے موقع سے فائدہ اٹھانے کے حامی تھے، جبکہ دوسری جانب اسٹیو وٹکوف اور وائٹ ہاو¿س کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کی قیادت میں ایک گروپ نے خبردار کیا کہ مکمل جنگ عرب اتحادیوں کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔دوسری طرف تہران نے سرکاری سطح پر ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجتماعی سزاو¿ں سے متعلق اطلاعات گمراہ کن ہیں اور ان کا مقصد امریکی ردعمل کو بھڑکانا ہے۔ عباس عراقچی نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو میں ان خبروں کو مسترد کیا، جبکہ تہران کے پراسیکیوٹر جنرل نے ملکی خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام پر سخت جواب دینے کی دھمکی دی اور احتجاجات کو بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا۔یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران شدید معاشی بحران کا شکار ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق دہائیوں میں سب سے بڑے عوامی احتجاجات پھوٹ پڑے ہیں۔اگرچہ خفیہ پیغام کے بعد عارضی سکون دیکھنے میں آیا ہے، تاہم ذرائع اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امریکی فوجی آپشن، جس میں جوہری اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے، اب بھی زیر غور ہے اور آنے والے دن اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan