
حیدرآباد، 18 ۔ جنوری (ہ س)۔حیدرآباد میں ٹیلی کام سے متعلق جرائم کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے سی سی ایس حیدرآباد سٹی کی اسپیشل کرائم ٹیم نے نامپلی پولیس کے تعاون سے 184 غیر قانونی طور پر ایکٹیویٹ کی گئی سم کارڈز کے ساتھ دو افراد کو گرفتار کیا۔ یہ کارروائی 17جنوری کو مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر انجام دی گئی، جس کے بعد شہر میں غیر قانونی پری ایکٹیویٹڈ سموں کی فروخت کاانکشاف ہوا۔اس معاملے نے کے وائی سی تفصیلات اور بائیومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال پر سنگین خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے پیش نظر پولیس نے عوام کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔پولیس کے مطابق دونوں ملزمان حیدرآباد میں مہنگی قیمتوں پر غیر قانونی طور پر ایکٹیویٹڈ سم کارڈز فروخت کرنے کی کوشش کررہے تھے، اسی دوران انہیں گرفتار کیاگیا۔ گرفتار شدگان کی شناخت نانیوت دنیش کمارنائک (22 سال)، جو ضلع کڑپہ، آندھرا پردیش میں لاونیا انٹرپرائزز کے نام سے سم ڈسٹری بیوشن کاکاروبارچلاتا ہے، اور پرناپلی سائی پردیپ (24 سال)، ایئرٹیل سم پروموٹر، ضلع کڑپہ، آندھرا پردیش کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان پہلے کڑپہ ضلع میں سم ڈسٹری بیوشن کا نیٹ ورک چلا رہے تھے اور بعد میں یہ غیر قانونی سم کارڈز حیدرآباد لا کرفروخت کیے جارہے تھے۔کارروائی کے دوران پولیس نے 184 غیر قانونی طور پر ایکٹیویٹڈ سم کارڈز ضبط کیے جن میں 150 ایئرٹیل اور 34 جیو سم کارڈز شامل ہیں، اس کے علاوہ چار موبائل فونز بھی تحویل میں لیے گئے۔ تمام ضبط شدہ سامان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے نامپلی پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان ایک دھوکہ دہی پر مبنی طریقہ استعمال کر رہے تھے۔ صارفین جب ووڈافون-آئیڈیا سم خریدنے کے لیے دکان پر آتے تھے تو انہیں بتائے بغیر ایئرٹیل سم کارڈز ایکٹیویٹ کر دیے جاتے تھے اور اس عمل میں صارفین کی کے وائی سی دستاویزات اور فنگر پرنٹس کا غلط استعمال کیاجاتاتھا۔ بعد میں یہ پری ایکٹیویٹڈ سم کارڈز حیدرآباد میں غیر قانونی طور پر فروخت کیے جاتے تھے۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی سم کارڈز سائبر جرائم، مالی دھوکہ دہی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہو سکتی ہیں۔گرفتاریوں کے بعد حیدرآباد پولیس نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سم کارڈ صرف مجاز نیٹ ورک اسٹورز سے ہی خریدیں، آدھار، فنگر پرنٹس یا کے وائی سی تفصیلات لاپرواہی سے کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور ہمیشہ اس بات کی تصدیق کریں کہ ان کے نام پر کون سی سم ایکٹیویٹ کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ معاملہ عوامی سلامتی سے جڑا ہوا ہے اور تحقیقات جاری ہیں، جن کے دوران غیر قانونی سموں کے خریداروں اور کسی بڑے سائبر کرائم نیٹ ورک سے ممکنہ روابط کا بھی پتہ لگایا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق