انڈمان سمندر میں ہندوستان کا پہلا میرین فش فارمنگ پروجیکٹ شروع
نئی دہلی، 18 جنوری (ہ س)۔ سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج بحیرہ انڈمان سے بھارت کے پہلے اوپن س
انڈمان سمندر میں ہندوستان کا پہلا میرین فش فارمنگ پروجیکٹ شروع


نئی دہلی، 18 جنوری (ہ س)۔ سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج بحیرہ انڈمان سے بھارت کے پہلے اوپن سی میرین فش فارمنگ منصوبے کا آغاز کیا۔وزیر موصوف نے اس اقدام کو ہندوستان کے وسیع سمندری وسائل کے ذریعے بلیو اکانومی کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں اولین اور اہم سنگ میلوں میں سے ایک قرار دیا، جیسا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے تصور پیش کیا اور جس پر وہ مسلسل زور دیتے رہے ہیں۔ بحیرہ انڈمان کے کھلے پانیوں کے اپنے دورے کے دوران اس پروجیکٹ کا آغاز نارتھ بے، سری وجے پورم میں کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ پہل ہندوستان کے سمندروں میں پوشیدہ معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے اٹھائے گئے ابتدائی اور نہایت اہم اقدامات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے سمندری وسائل، ہمالیائی خطے اور زمینی وسائل کی طرح، بے پناہ اور متنوع معاشی امکانات رکھتے ہیں، تاہم دہائیوں تک ان پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔وزیر موصوف نے کہا کہ آزادی کے بعد تقریباً ستر برسوں تک ہندوستان کے سمندری وسائل بڑی حد تک غیر دریافت شدہ رہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ 2014 کے بعد قومی سوچ میں ایک بنیادی تبدیلی آئی ہے، جس کے تحت اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ ہندوستان کا سمندری دائرہ اقتصادی ترقی کے لیے دولت اور مواقع کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے مغربی، جنوبی اور مشرقی سمندری خطوں کی اپنی الگ خصوصیات ہیں اور ہر ایک ملک کی مجموعی ترقی میں منفرد کردار ادا کرتا ہے۔

یہ پروجیکٹ وزارتِ ارضیاتی علوم، حکومتِ ہند، اس کے تکنیکی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشین ٹیکنالوجی (این آئی او ٹی) اور انڈمان و نکوبار جزائر کی یو ٹی انتظامیہ کے باہمی اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ پائلٹ اقدام قدرتی سمندری حالات میں کھلے سمندر میں میرین فن فِش اور سمندری گھاس کی کاشت پر مرکوز ہے، جس کے ذریعے سائنسی اختراعات کو روزگار کے مواقع سے جوڑا جا رہا ہے۔فیلڈ وزٹ کے دوران روزگار پر مبنی دو اہم مداخلتوں کا بھی آغاز کیا گیا۔ سمندری نباتات کے جزو کے تحت وزیر موصوف نے مقامی ماہی گیر برادریوں میں کھلے سمندر کے گہرے پانیوں میں سمندری گھاس کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے سمندری گھاس کے بیج تقسیم کیے۔ سمندری حیوانات کے جزو کے تحت فن فش کے بیج پنجرہ پر مبنی کاشت کے لیے فراہم کیے گئے، جنہیں این آئی او ٹی کے تیار کردہ کھلے سمندر کے خصوصی پنجروں کی مدد حاصل تھی، جو قدرتی سمندری ماحول میں کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اگرچہ موجودہ پروجیکٹس حکومتی قیادت میں شراکت داری کے ذریعے شروع کیے جا رہے ہیں، تاہم حاصل ہونے والا تجربہ اور فزیبلٹی اسسمنٹ مستقبل میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت اس طرح کے اقدامات کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نقطہ نظر نہ صرف عمل درآمد کی رفتار کو تیز کرے گا بلکہ روزگار میں اضافہ اور ہندوستان کے بلیو اکانومی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے میں بھی مددگار ہوگا۔بعد ازاں، انڈمان جزائر کے اپنے دورے کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ونڈور کے قریب واقع مہاتما گاندھی میرین نیشنل پارک (ایم جی ایم این پی) کا بھی دورہ کیا، جو 1983 میں قائم ہونے والے ملک کے اولین میرین پارکوں میں سے ایک ہے۔ یہ پارک 15 جزیروں پر مشتمل ہے اور ونڈور جیٹی کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کی جاتی ہے، جبکہ یہ جولی بوائے اور ریڈ اسکن جیسے محفوظ جزیروں کے لیے مشہور ہے۔ وزیر موصوف نے پارک کے بھرپور اور خود کفیل سمندری ماحولیاتی نظام کا مشاہدہ کیا، جس میں متحرک مرجانی چٹانیں، مینگرووز اور متنوع سمندری حیات، بشمول کچھوے اور مچھلیوں کی مختلف اقسام، شامل ہیں۔نارتھ بے سے اس پروجیکٹ کا آغاز سائنس اور ٹیکنالوجی کو براہ راست میدان تک پہنچانے کے لیے حکومتِ ہند کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ ساحلی اور جزیرہ جاتی برادریاں ہندوستان کی سمندر پر مبنی اقتصادی ترقی میں فعال شراکت دار بن سکیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande