
گروگرام، 18 جنوری (ہ س)۔ سمس پور گاو¿ں کے ایک مندر میں پجاری کی تقرری کو لے کر جھگڑا اس حد تک بڑھ گیا کہ دو گروپوں میں لاٹھیوں اور سلاخوں سے تصادم ہوا۔ تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ متعدد خواتین اور دیگر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو سیکٹر 10 سول اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اتوار کو تحریر کے وقت علاقے میں کشیدگی برقرار تھی۔ پولس ترجمان سندیپ کمار نے اتوار کو بتایا کہ گاو¿ں میں پولس گشت بڑھا دی گئی ہے اور کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق سمس پور مندر میں ایک پجاری مقرر کیا گیا تھا۔ تقرری کو لے کر گاو¿ں میں دو گروپوں کے درمیان دیرینہ تنازعہ چل رہا تھا۔ یہ جھگڑا جسمانی جھگڑے میں بدل گیا، جس کے نتیجے میں دونوں گروپوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔ دونوں جانب سے لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ جھگڑے کی اطلاع ملتے ہی سیکٹر 50 تھانے کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور دونوں طرف سے شکایتیں سنیں۔ پولیس نے اس معاملے میں 11 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ واقعے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔ اس ویڈیو اور زخمیوں کی میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر پولیس پورے واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ایک فریق کا الزام ہے کہ ہریانہ پولس کا ایک ملازم اس جھگڑے میں ملوث تھا اور اسے بار بار دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ متاثرین نے اپنی جان و مال کے تحفظ کی استدعا کرتے ہوئے پولیس سے منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی