ہمارا مشن امن کونسل کے تعاون سے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کرنا ہے:غزہ انتظامی کمیٹی
غزہ،18جنوری(ہ س)۔غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے کی تعمیر نو، سکیورٹی کے قیام اور بنیادی سہولیات کی بحالی پر توجہ دے گی، جس میں بجلی، پانی، صحت کی سہولیات اور تعلیم شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ امن کونسل کے مندوبین نے
ہمارا مشن امن کونسل کے تعاون سے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کرنا ہے:غزہ انتظامی کمیٹی


غزہ،18جنوری(ہ س)۔غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے کی تعمیر نو، سکیورٹی کے قیام اور بنیادی سہولیات کی بحالی پر توجہ دے گی، جس میں بجلی، پانی، صحت کی سہولیات اور تعلیم شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ امن کونسل کے مندوبین نے انسانی امداد کے دائرہ کار کو بڑھانے، عوامی خدمات کی بحالی، اہم بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور عدلیہ و سکیورٹی اداروں کی تنظیم نو کے منصوبے تیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔کمیٹی نے اعلیٰ معیار کی شفافیت اور ایمانداری پر زور دیتے ہوئے ایک ایسی پیداواری معیشت قائم کرنے کا عہد کیا ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کرے اور خود انحصاری کو فروغ دے، یہ سب فلسطینی حقوق اور حق خود ارادیت کے حصول کے ویڑن کے تحت کیا جائے گا۔

یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا جب غزہ کی قومی انتظامیہ کمیٹی جو ایک عبوری ٹیکنوکریٹک حکومتی ادارہ ہے اور سلامتی کونسل کی سنہ 2803ءکی قرارداد اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ بیس نکاتی امن منصوبہ کے تحت قائم کی گئی ہے، نے 15 جنوری سنہ 2026ئ کو قاہرہ میں اپنا افتتاحی اجلاس منعقد کیا اور غزہ میں سول اور اندرونی سکیورٹی کے امور کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے باقاعدہ آغاز کا اعلان کیا۔یہ اجلاس کمیٹی کے استحکام، بحالی اور تعمیر نو کی نگرانی کے عمل کے آغاز کا اشارہ بھی تھا، جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے ادارہ جاتی اصلاحاتی پروگرام کو مکمل نہیں کر لیتی۔افتتاحی اجلاس کے دوران کمیٹی کے جنرل کمشنر ڈاکٹر علی شعث نے مختصر بیان میں کہا کہ کمیٹی کی تشکیل غزہ کے راستے میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتی ہے اور اس نئی باڈی کی مکمل فلسطینی نوعیت پر زور دیا۔

شعث نے کہاکہ قومی کمیٹی کی تشکیل ایک المیہےسے نئے آغاز کی طرف تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ ایک فلسطینی ادارہ ہے جو فلسطینیوں نے فلسطینیوں کے لیے قائم کیا ہے اور اسے فلسطینی قیادت، فلسطینی اتھارٹی اور فلسطینی دھڑوں کی حمایت حاصل ہے۔ غزہ کی تعمیر نو صرف بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں، بلکہ ایک ایسا معاشرہ دوبارہ قائم کرنا ہے جو استحکام، وقار اور منصفانہ اور پائیدار امن پر مبنی ہو۔کمیٹی میں فلسطینی پیشہ ور افراد اور عبوری دور کے انتظام کے ماہرین شامل ہیں۔ ان میں عبد الکریم عاشور امور زراعت، عمر شمالی مواصلات و ڈیجیٹل خدمات، ڈاکٹر عاید ابو رمضان معیشت، صنعت اور تجارت، ڈاکٹر جبر الداعور تعلیم، ڈاکٹر بشیر ریس مالیات، ڈاکٹر عاید یاغی صحت، سامی نصمان داخلی امور، عدنان ابو وردہ، انصاف، اسامہ الصداوی زمین و رہائش، ینا ترزی سوشل سکیورٹی اور ڈاکٹر علی برہوم پانی، سہولیات اور مقامی اداروں کے امور کی نگرانی کریں گے۔

کمیٹی نے اعلان کیا کہ آئندہ ہفتوں میں مزید تقرریاں بھی ظاہر کی جائیں گی۔اس کے علاوہ، اجلاس میں کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔کمیٹی نے اپنا پہلا اجلاس اس عزم کے ساتھ ختم کیا کہ غزہ کے عوام کے لیے ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو وقار، مساوات اور امید فراہم کریں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande