سعودی عرب علاقائی امن میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے: یورپی یونین
ریاض،18جنوری(ہ س)۔یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی نائب سربراہ ہانا جلول مورو نے یورپی یونین کے لیے ’قابلِ اعتماد شراکت دار‘ کے طور پر سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی ہے۔مملکت کو ایک ’اہم بین الاقوامی عنصر‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے علاقائی استحک
سعودی عرب علاقائی امن میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے: یورپی یونین


ریاض،18جنوری(ہ س)۔یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی نائب سربراہ ہانا جلول مورو نے یورپی یونین کے لیے ’قابلِ اعتماد شراکت دار‘ کے طور پر سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی ہے۔مملکت کو ایک ’اہم بین الاقوامی عنصر‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے علاقائی استحکام میں اس کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔مورو نے عرب نیوز کو بتایا، سعودی عرب ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے کیونکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جس نے ویڑن 2030 کے ساتھ صرف گذشتہ پانچ چھے سالوں میں یہ ظاہر کیا ہے کہ اس میں مت?ثر کن تبدیلی آئی ہے۔ اس کے پاس خواتین کی بڑی افرادی قوت ہے، نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح بہت کم ہے اور اس کی نمو بہت تیز ہے۔

ریاض میں فیوچر منرلز فورم کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: یوکرین امن مذاکرات، شامی حکومت کی حمایت، شام کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی، لبنان میں حکومت کو مستحکم کرنا، غزہ میں امن کے فروغ اور جنگ بندی کے لیے زور دینے کے حوالے سے سعودی عرب اب بین الاقوامی میدان میں ایک اہم ملک بن رہا ہے۔اس لیے میرے خیال میں بین الاقوامی سطح پر اس کی کلیدی اہمیت ہے جو خطے میں استحکام کے لیے بہت ضروری ہے۔’ مورو نے مزید کہا۔وہ مملکت کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کیوں سمجھتی ہیں، اس کی وضاحت کرتے ہوئے مورو نے کہا: یہ ایک ایسا ملک ہے جو جانتا ہے کہ مشرق کو کیسے دیکھنا ہے اور مغرب کو کیسے۔

مورو سعودی عرب کے لیے یورپی پارلیمنٹ کی نمائندہ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں اور قانون سازی اور بجٹ تجاویز اور دیگر اہم دوطرفہ امور پر رپورٹس تیار کرنے کی ذمہ دار ہیں۔دسمبر 2025 کے وسط میں یورپی پارلیمنٹ نے یورپی یونین-سعودی تعلقات کو ایک مکمل تزویری و فوجی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل کی توثیق کی جسے یورپی یونین میں سعودی سفیر حیفہ الجدیہ نے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔رپورٹ میں سعودی-ای یو ویزا فری سفر کے امکان پر روشنی ڈالی گئی جو اس بات کی توثیق ہے کہ نئی ویزا حکمتِ عملی کے تحت مساوی سلوک کو یقینی بنانے کی غرض سے یورپی یونین پانچ جی سی سی ممالک کے ساتھ ایک محفوظ، باہمی طور پر فائدہ مند ویزا فری انتظامات میں پیش رفت کے لیے پرعزم ہے۔مورو نے کہا، اہم بنیادی موضوعات میں سے ایک سعودی عرب کے لیے ویزا کی رعایت ہے جس کی میں ہمیشہ حمایت کرتی ہوں۔ سعودی عرب جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پانچ سال سے اہم واقعات سے گذر رہا ہے اور میرے خیال میں ہمیں ویزا رعایت کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے لیے سعودی سیاحوں کی اقتصادی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی بالخصوص مہمان نوازی، خوردہ اور ثقافتی شعبوں کے حوالے سے جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ سعودی شہری غیر قانونی نقلِ مکانی کے دباو¿ کا باعث نہیں بنتے۔ویزا رعایت کی تازہ صورتِ حال کے بارے میں سوال پر مورو نے کہا: منظوری، یہ کمیشن کی سفارش ہے کہ وہ اس کی اہمیت کو مدِنظر رکھے۔ ہمیں اس پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اس تزویری شراکت داری معاہدے کے فریم ورک میں ہیں جس میں کئی موضوعات شامل ہیں اس لیے ویزا کی رعایت ایک مرکزی کلیدی مسئلہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande