
نئی دہلی، 18 جنوری (ہ س)۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں دہلی حکومت نے دارالحکومت میں میٹرو نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کا ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔
حکومت نے دہلی میٹرو ریل ٹرانزٹ سسٹم (ایم آر ٹی ایس) کے فیزچار کے بقیہ تین راہداریوں کے لیے اپنا حصہ جاری کر دیا ہے۔
آج ایک ریلیز جاری کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پروجیکٹ دہلی کے مختلف علاقوں کو میٹرو سے بہتر رابطہ فراہم کریں گے اور پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو مزید مضبوط کریں گے۔ توقع ہے کہ راہداری چار سال میں مکمل ہو جائے گی۔ میٹرو کے بہتر آپریشن بھی آلودگی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
میٹرو فیز چار کے ان تینوں راہداریوں کی کل لمبائی 47.225 کلومیٹر ہوگی۔ ان پروجیکٹوں پر تقریباً 14,630.80 کروڑ روپے لاگت آئے گی جس میں سے 3,386.18 کروڑ روپے دہلی حکومت برداشت کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پہلا کاریڈور لاجپت نگر سے ساکیت جی بلاک تک تجویز کیا گیا ہے۔ یہ 8.385 کلومیٹر طویل ہوگا اور اس میں 8 ایلیویٹڈ میٹرو اسٹیشن شامل ہوں گے۔ دوسرا کوریڈور اندرلوک سے اندر پرستھ تک تجویز کیا گیا ہے، جس کی لمبائی 12.377 کلومیٹر ہے۔ اس لائن میں کل 10 میٹرو اسٹیشن ہوں گے، جن میں ایک ایلیویٹڈ اور نو زیر زمین ہوں گے۔ یہ راہداری لاجپت نگر-ساکیت جی-بلاک کوریڈور کے ساتھ مشترکہ مالیاتی فریم ورک میں شامل ہے۔ ان دونوں راہداریوں کی مشترکہ پروجیکٹ لاگت 8,399.81 کروڑ ہے، جس میں دہلی حکومت کا حصہ 1,987.86 کروڑ ہوگا۔
تیسرا اور سب سے طویل کوریڈور رتلہ سے کنڈلی تک تجویز کیا گیا ہے۔ یہ میٹرو کوریڈور پڑوسی ریاست ہریانہ سے جڑے گا۔ اس کی کل لمبائی 26.463 کلومیٹر ہوگی اور اس میں 21 اسٹیشن ہوں گے۔ اس پروجیکٹ کی کل لاگت کا تخمینہ 6,230.99 کروڑ لگایا گیا ہے، جس میں دہلی حکومت کا حصہ 1,398.32 کروڑ ہوگا۔ کل لاگت میں سے 5,685.22 کروڑ دہلی کا حصہ اور 545.77 کروڑ ہریانہ کا حصہ ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ تینوں راہداری دہلی کے کئی علاقوں کے باشندوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ