
چترکوٹ، 18 جنوری (ہ س) ۔اترپردیش کے چترکوٹ ضلع میں تقریباً 21 بندروں کی لاشیں سڑک کے کنارے پائی گئیں۔ مقامی لوگوں کو شبہ ہے کہ بندروں کو مار کر ان کی لاشیں پھینک دی گئیں۔ پولیس اور محکمہ جنگلات کی ٹیموں نے لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا اور معاملے کی تحقیقات شروع کردی۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ستیہ پال سنگھ نے اتوار کو بتایا کہ یہ واقعہ سیتا پور چوکی کے شیورام پور روڈ پر واقع منوہر گنج گاو¿ں کے قریب پیش آیا، جہاں ایک کلومیٹر تک سڑک کے کنارے کئی بندر مردہ پائے گئے۔ دو بندر زخمی حالت میں پائے گئے جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور محکمہ جنگلات کی ٹیموں نے سڑک کے کنارے سے ملنے والی 21 بندروں کی لاشیں قبضے میں لے لیں۔ تمام مردہ بندر پانی میں بھیگے ہوئے اور خون میں لت پت پائے گئے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ آج صبح کسی نے بندروں کو مار کر ان کی لاشیں سڑک کے کنارے پھینک دیں۔ مقامی افراد سوہن لال، اشوک کمار اور گووند کا کہنا ہے کہ بندروں کا یہ وحشیانہ قتل اور انہیں چھوڑنا ہندو عقیدے کی براہ راست خلاف ورزی اور ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے معاملے کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس معاملے میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ستیہ پال سنگھ نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کی ٹیم نے سڑک کے کنارے پائے گئے 21 بندروں کی لاشوں کو اپنے قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ بندروں کی موت کرنٹ لگنے سے ہوئی ہے تاہم موت کی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد واضح ہو سکے گی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی