محنت کش طبقہ حاشیے پر، مذہب اور چندے کے سہارے کچھ لوگ بااثر بن کر فائدہ اٹھا رہے ہیں: آر ڈی پرجاپتی
بھوپال میں ایس سی-ایس ٹی-او بی سی سنیکت مورچہ کا مہا سمیلن منعقد، مذہبی رہنماوں کی زبان پر اٹھے سخت سوال بھوپال، 18 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے بھیل دسہرہ میدان میں اتوار کو شیڈول کاسٹ، ٹرائب اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی
شیڈول کاسٹ، ٹرائب اور دیگر پسماندہ طبقات سنیکت مورچہ کے مہا سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن اسمبلی آر ڈی پرجاپتی


بھوپال میں ایس سی-ایس ٹی-او بی سی سنیکت مورچہ کا مہا سمیلن منعقد، مذہبی رہنماوں کی زبان پر اٹھے سخت سوال

بھوپال، 18 جنوری (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے بھیل دسہرہ میدان میں اتوار کو شیڈول کاسٹ، ٹرائب اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) سنیکت مورچہ کی جانب سے مہا سمیلن کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں سماجی، مذہبی اور سیاسی مسائل کو لے کر مقررین نے کھل کر اپنی بات رکھی۔

چھترپور ضلع کے چندلا سے سابق رکن اسمبلی آر ڈی پرجاپتی نے اسٹیج سے کہا کہ ملک میں کچھ مذہبی مبلغ (کتھا واچک) اور مذہبی رہنما بڑی تعداد میں بھیڑ اکٹھا کرنے کے باوجود خواتین کے خلاف قابل اعتراض اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں، لیکن ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کتھا واچک دھیریندر شاستری اور انیرودھاچاریہ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ خواتین کا موازنہ ’خالی پلاٹ‘ سے کرنا یا نوجوان لڑکیوں پر نازیبا تبصرے کرنا کسی بھی مذہب یا شاستر میں قابل قبول نہیں ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی خاتون بیوہ ہو جاتی ہے، تو کیا سندور اور منگل سوتر ہٹنے سے اس کا احترام بھی ختم ہو جاتا ہے؟ زمین کی طرح جسے خریدا اور بیچا جا سکے، کیا سماج اپنی بہن بیٹیوں کو بھی اسی نظر سے دیکھے گا؟ پرجاپتی نے کہا کہ ویاس پیٹھ سے اس طرح کی زبان نہیں آنی چاہیے اور انتظامیہ کو ایسے لوگوں پر کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ محنت کش طبقہ حاشیے پر ہے، جبکہ مذہب اور چندے کے سہارے کچھ لوگ بااثر بن کر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

دلت پسماندہ سوسائٹی آرگنائزیشن کے بانی دامودر یادو نے بھی کانفرنس میں تند و تیز بیانات دئیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندو مذہب کی شناخت او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی سماج کی توہین، استحصال اور امتیازی سلوک سے جوڑ دی جاتی ہے، تو وہ ایسے مذہب کو چھوڑنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ یادو نے کہا کہ جس مذہب کا استعمال منو وادی سوچ اور ذات پات کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے، اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مذہب انسانیت ہے اور ان کی سب سے بڑی عقیدت بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کے آئین میں ہے۔

دامودر یادو نے ریاستی حکومت پر بھی نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ صرف نام کے لیے کرسی پر بیٹھے ہیں اور اصل اقتدار ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والے وقت میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی سماج مل کر اقتدار سنبھالے گا۔ یادو نے انتباہ دیا کہ اگر 14 مارچ سے پہلے گوالیار ہائی کورٹ احاطے میں ڈاکٹر امبیڈکر کا مجسمہ نصب نہیں کیا گیا، تو آزاد سماج پارٹی، بھیم آرمی، جیس اور او بی سی تنظیمیں خود مجسمہ نصب کریں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی اے ایس افسر سنتوش ورما کو سماجی ہم آہنگی اور روٹی بیٹی کے رشتوں کی بات کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اگر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، تو اس کا جواب دارالحکومت بھوپال میں دیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande