
علی گڑھ, 18 جنوری (ہ س)۔
کروڑوںروپئے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا راجہ مہندر پرتاپ سنگھ ریاستی یونیورسٹی کا نو تعمیر شدہ کیمپس میں خشک پڑے لان، مرجھائی گھاس، ٹوٹے ہوئے باتھ روم کے دروازے بدانتظامی کی کہانی سنانے لگے ہیں۔ جس احاطے کو ہریالی، صفائی اور جدید سہولیات کا ماڈل ہونا تھا، وہاں گندگی اور لاپروائی کی تصویریں سامنے آ رہی ہیں۔
کیمپس میں داخل ہوتے ہی سامنے انتظامی بلاک واقع ہے، جہاں وی سی ، رجسٹرار سمیت دیگر افسران کے دفاتر ،بس اسی کے آس پاس کچھ ہریالی نظر آتی ہے، اکیڈمک بلاک کے سامنے واقع کسی لان پر نظر ڈالیں تو وہ خشک نظر آتے ہیں۔ ان میں اگائی گئی گھاس مرجھا چکی ہے یا مکمل طور پر سوکھ گئی ہے۔ کئی مقامات پر کوڑا کرکٹ پھیلا ہوا نظر آتا ہے، باقاعدہ آبپاشی اور دیکھ بھال کی کمی سے ہریالی کے دعوے بے بنیاد نظر آ رہے ہیں، جو ماحولیاتی اور جمالیاتی معیار پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔ اکیڈمک بلاک نمبر تین کے پاس بڑی تعداد میں لگائے گئے پودے مناسب دیکھ بھال کے انتظار میں خشک ہوگئے۔ اسی طرح فیسلٹی سینٹر، جو فی الحال بطور چھوٹی کینٹین چل رہا ہے، اسکی حالت بھی تشویش ناک ہے۔ یہاں بنے باتھ رومز میں گندگی پھیلی ہوئی ہے اور بیت الخلاؤں کے دروازے ٹوٹے پڑے ہیں۔ صفائی ستھرائی کا کوئی انتظام نظر نہیں آتا، جسکے باعث طلبہ و طالبات اور ملازمین کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ انتظامیہ مسلسل کریم کیمپس۔کلین کیمپس کا دعویٰ کر رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ فیسلٹی سینٹر کے ٹوٹے ہوئے دروازوں کا الزام انتظامیہ نے کیمپس میں احتجاج کر نے والی ایک بڑی طلبہ تنظیم پر ڈال دیا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ