علی خامنہ ای کے اقتدار کے خاتمہ جلد: ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن،18جنوری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی سوشل میڈیا پوسٹس پڑھنے کے بعد رائے دی ہے کہ وہ اپنے ملک کی مکمل تباہی کے مجرم اور قصوروار ہیں۔ ویب سائٹ پولیٹیکو نے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہاو¿س کے سربراہ نے ایرانی سپ
سزائے موت کی منسوخی پرٹرمپ ایرانیوں کے شکرگزار


واشنگٹن،18جنوری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی سوشل میڈیا پوسٹس پڑھنے کے بعد رائے دی ہے کہ وہ اپنے ملک کی مکمل تباہی کے مجرم اور قصوروار ہیں۔ ویب سائٹ پولیٹیکو نے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہاو¿س کے سربراہ نے ایرانی سپریم لیڈر کے 37 سالہ اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران میں نئی قیادت تلاش کی جائے۔ ٹرمپ نے ایران میں ممکنہ امریکی فوجی آپریشن کی وسعت کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر یہ بھی کہا کہ علی خامنہ ای کا اب تک کا بہترین فیصلہ دو دن قبل 800 سے زائد لوگوں کو سزائے موت نہ دینا تھا۔ٹرمپ کے یہ تبصرے علی خامنہ ای کے آن لائن اکاونٹ سے ٹرمپ کے نام پیغامات کے سلسلے کی اشاعت کے تھوڑی دیر بعد سامنے آئے جن میں امریکی صدر پر ایران میں تشدد اور مہلک بدامنی کا ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ان پوسٹس کا جائزہ لینے کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے حکمران اقتدار کے لیے جبر اور تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے قائد کے طور پر انہوں نے جو کچھ کیا وہ ایران کی مکمل تباہی اور غیر معمولی سطح پر تشدد کا استعمال ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو چلانے کے لیے قیادت۔ چاہے وہ انتہائی نچلی سطح پر ہی کیوں نہ ہو۔ کو ملک کے معاملات کو صحیح طریقے سے چلانے پر ایسے توجہ دینی چاہیے جیسا میں امریکہ کے ساتھ کر رہا ہوں، نہ کہ کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے ہزاروں لوگوں کو قتل کردینا چاہیے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ قیادت احترام پر مبنی ہوتی ہے، خوف اور موت پر نہیں۔ ٹرمپ ذاتی سطح پر مزید آگے بڑھے اور علی خامنہ ای اور ایرانی نظامِ حکومت کی شدید مذمت کی۔ٹرمپ نے مزید بات کی اور کہا یہ شخص بیمار ہے، اسے اپنا ملک صحیح طرح چلانا چاہیے اور لوگوں کو مارنا بند کرنا چاہیے۔ خراب قیادت کی وجہ سے اس کا ملک دنیا میں رہنے کے لیے بدترین جگہ بن چکا ہے۔ واضح رہے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو احتجاج کے دوران جانی و مالی نقصان اور ایرانیوں کی ساکھ متاثر کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم امریکی صدر کو ملک میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی وجہ سے مجرم سمجھتے ہیں۔انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے ایرانی عوام پر لگائے گئے الزامات اور بہتان تراشی پر بھی تنقید کی۔ ان کے بقول ایران کے خلاف حالیہ اشتعال انگیزی مختلف تھی کیونکہ امریکی صدر اس میں ذاتی طور پر ملوث تھے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ملک میں حالیہ فتنے کے پیچھے ٹرمپ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ ان لوگوں نے احتجاج کے دوران بھاری نقصان پہنچایا اور ہزاروں افراد کو قتل کیا۔ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ حکام ملک کو جنگ میں نہیں دھکیلیں گے لیکن وہ مقامی یا بین الاقوامی مجرموں کو سزا سے بھی بچنے نہیں دیں گے۔ جہاں تک معاشی صورتحال کا تعلق ہے علی خامنہ ای نے اعتراف کیا کہ یہ خراب ہے اور شہری حقیقی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande