ٹرمپ کا ایران سے متعلق مختلف خفیہ آپشنز پر غور،ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ موخر
واشنگٹن،17 جنوری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ تصدیق کیے جانے کے بعد کہ انہوں نے فی الحال ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ موخر کر دیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی شدت میں نسبتاً کمی آئی ہے۔ تاہم، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایر
ٹرمپ کا ایران سے متعلق مختلف خفیہ آپشنز پر غور،ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ موخر


واشنگٹن،17 جنوری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ تصدیق کیے جانے کے بعد کہ انہوں نے فی الحال ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ موخر کر دیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی شدت میں نسبتاً کمی آئی ہے۔ تاہم، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان رابطے کے باوجود تناو بدستور برقرار ہے۔ ٹرم کے مطابق ایران نے 800 مظاہرین کو سزائے موت دینے کا عمل روک دیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے تمام آپشنوں کو کھلا رکھا ہے اور حتمی طور پر کیا فیصلہ ہو گا، یہ خود صدر کے سوا کوئی نہیں جانتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ وہ فیصلے کریں گے جو امریکہ اور دنیا کے مفاد میں ہوں گے، جیسا کہ ہفتے کے روز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا۔ایرانی سفارت کاروں نے رواں ہفتے کے دوران امریکہ کو ایران پر حملہ نہ کرنے پر آمادہ کرنے اور اس کے بجائے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔ عرب اور یورپی حکام کے مطابق، عباس عراقچی نے اس امید پر رابطہ کیا کہ عالمی اقتصادی فورم کے آغاز سے قبل سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ایک ملاقات طے ہو سکے، تاہم اس ملاقات کے انتظامات مکمل نہ ہو سکے۔دوسری جانب، امریکی سیاسی اور فوجی حکام پہلے ہی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپشنز پر کام شروع کر چکے تھے، اور نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو جیسے اعلیٰ معاونین کی جانب سے غیر رسمی بریفنگز بھی دی جا رہی تھیں۔اگرچہ منگل کے روز صدر ٹرمپ کی دفاعی وزیر پیٹ ہیگسِتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین سمیت اعلیٰ حکام کے ساتھ بعض منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ملاقات طے تھی، تاہم صدر اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے سخت بیانات دیے اور ایرانی مظاہرین سے اداروں پر قابو پانے کی اپیل کی۔بعد ازاں بدھ، جمعرات اور جمعہ کو صدر ٹرمپ نے اپنے لہجے میں کچھ نرمی کی۔ جمعہ کے روز انہوں نے ایرانی حکام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سزائے موت کا عمل روک دیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کی تعداد 800 تک پہنچ چکی تھی۔ انہوں نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا میں ایرانی قیادت کی جانب سے تمام مجوزہ سزائے موت کے فیصلے منسوخ کیے جانے (800 سے زائد) کو بہت سراہتا ہوں۔اس کے باوجود گذشتہ جمعرات کو امریکہ نے خطے میں مزید فوجی دستے بھیج دیے، جو اس بات کی علامت ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے موقف پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں اور ممکن ہے کسی اچانک حملے کا فیصلہ کر لیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande