
قاہرہ،17جنوری(ہ س)۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دریائے نیل پر مصر اور ایتھوپیا کے درمیان تنازعہ میں دونوں کو ثالثی کی ایک بار پھر پیشکش کی ہے۔ جمعہ کے روز اپنے سوشل میڈیا اکاو¿نٹ 'ٹروتھ سوشل' پر صدر ٹرمپ نے کہا میں مصر اور ایتھوپیا کے درمیان دریائے نیل پر جاری تنازعے کے لیے دوبارہ سے امریکی ثالثی شروع کرنے کو تیار ہوں اور اس تنازعے کو ختم کرنے کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ جو ایتھوپیا اور مصر کے درمیان دریائے نیل کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے چلا آرہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ادیس ابابا نے 9 ستمبر کو ایک بڑے ڈیم افتتاح کیا تھا۔ جس سے قاہرہ میں سخت ناراضگی شروع ہوگئی۔ یہ ڈیم مصر کے مطابق قاہرہ کا پانی روکنے کا باعث بنے گا۔ایتھوپیا افریقہ کی دوسری بڑی آبادی کا ملک ہے۔ جس کی آبادی کا اندازہ 1 کروڑ 20 لاکھ ہے۔ ایتھوپیا کا اندازہ ہے کہ ڈیم کی تعمیر پر 5 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ یہ ڈیم دریائے نیل کو پانی فراہم کرنے والی ایک 'ٹرائبیوٹری' پر قائم کیا جائے گا۔ جو ایتھوپیا کے معاشی منصوبوں میں سے ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے۔
مصر کا ڈیم کے حوالے سے کہنا ہے کہ ایتھوپیا کے اس ڈیم کے منصوبے سے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگی اور اس ڈیم کی وجہ سے دونوں ملکوں میں خشک سالی کے ساتھ ساتھ سیلاب کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔تاہم ایتھوپیا مصر کے اس دعوے کو مسترد کرتا ہے جس سے دونوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا۔صدر ٹرمپ نے اس تنازعے کے خاتمے کے لیے اپنی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ صدر ٹرمپ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی اکتوبر میں ہونے والے اپنے دورہ مصر کے دوران تعریف کر کے آئے تھے کہ انہوں نے غزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور اس سلسلے میں صدر ٹرمپ کی مدد کی ہے۔ٹرمپ نے قاہرہ کی دریائے نیل پر بننے والے اس ڈیم کے بارے میں تشویش کی حمایت کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan