کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کے الزام میں سائبر ٹھک سنٹو گرفتار
۔چھ موبائل فون، 4.50 لاکھ روپے نقد اور ایک گولی ضبط کی گئی رام گڑھ، 17 جنوری (ہ س)۔ ملک کے کئی بڑے اسکریپ ڈیلروں سمیت سیکڑوں لوگوں کو دھوکہ دینے والا سائبر ٹھگ سنٹو کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ رام گڑھ پولیس کی کوششوں کی بدولت گولا کے علاقے میں س
JH-Cyber-criminal-Santu-arrested


۔چھ موبائل فون، 4.50 لاکھ روپے نقد اور ایک گولی ضبط کی گئی

رام گڑھ، 17 جنوری (ہ س)۔ ملک کے کئی بڑے اسکریپ ڈیلروں سمیت سیکڑوں لوگوں کو دھوکہ دینے والا سائبر ٹھگ سنٹو کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ رام گڑھ پولیس کی کوششوں کی بدولت گولا کے علاقے میں سنٹو عرف سینٹو عرف کندن کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے پاس سے چھ موبائل فون، 4.50 لاکھ روپے نقد اور ایک گولی موٹر سائیکل ضبط کی گئی۔ یہ جانکاری پولیس سپرنٹنڈنٹ اجے کمار نے ہفتہ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران دی۔

انہوں نے بتایا کہ سنٹو عرف سینٹو عرف کندن کا تعلق اصل میں بہار کے نالندہ ضلع کے پرولپورتھانہ کے تحت مووا، بانگ پور سے ہے۔ وہ سائبر فراڈ کے تقریباً 12 مقدمات میں ملوث رہا ہے۔ وہ ایک ایسے گروہ کا بھی سرگرم رکن رہا ہے جو اسکریپ ڈیلرز کو اغوا کرتا ہے اور ان سے بڑی رقم وصول کرتا ہے۔ وہ مہاراشٹر کے ایک تاجر کے قتل میں بھی ملوث رہا ہے ۔ اس کی گرفتاری پولیس کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) نے بتایا کہ سنٹو نے پولیس سے چھپنے کے لیے رام گڑھ ضلع کے گولا تھانہ علاقے کا انتخاب کیا تھا۔ گزشتہ نو مہینوں سے وہ گولا کے ہیرمدگاگاو¿ں میں ریٹائرڈ انجینئر کرشنا کمار پرساد کے مکان میں کرائے کے کمرے میں رہ رہا تھا۔ وہ وہاں سے سائبر کرائم انجام دے رہا تھا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ اجے کمار نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران سنٹو نے 12 تاجروں کو لوٹنے کا اعتراف کیا۔ جنوری 2025 میں، اس نے راجکوٹ کے کوشک کیڈیا سے 7 لاکھ، جیتیش کمار سے 5 لاکھ، سومناتھ پٹیل سے 4 لاکھ، مہاراشٹر کے مہیش بھائی سے 5 لاکھ، گجرات کے سمبھاجی سے 8 لاکھ، ریتو کاسٹنگ کمپنی کے مالک سے 10 لاکھ، دیپک کمار کنوڈیا سے 7 لاکھ، پونے کے سمبھا کمار سے 7 لاکھ، اور کوشک بھائی سے 30لاکھ روپے کی جبری وصولی کی وارداتوں میں شامل رہا ہے۔ اب تک، اس نے کل60لاکھ روپے کی آن لائن وصولی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ سائبر فراڈ سے برآمد ہونے والی رقم سے سنٹو نے تین ایپل موبائل، رائل اینفیلڈ بلٹ بی آر 21 ایف 8055 اور اپنے بہنوئی رتن منڈل کے نام پر ایک کالی اسکارپیو خریدی ہے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ اجے کمار نے بتایا کہ گینگ کے ارکان نے مہاراشٹر کے پونے میں مقیم رتن دیپ کاسٹنگ کے مالک لکشمن شندے کو پٹنہ بلایا تھا۔ 11 اپریل 2025 کو انہوں نے اسے ایک فرضی کمپنی کی میٹنگ کی آڑ میں پٹنہ بلایا اورہوائی اڈے سے اغوا کیا اور ہلسا میں رکھا۔ شندے کے خاندان نے پھر 12 لاکھ روپے ان کے اکاو¿نٹ میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ جب اس سے اے ٹی ایم کا پن کوڈ پوچھا گیا تو اس نے بار بار غلط کوڈ دیا۔ اس کے بعد گینگ کے ارکان نے اس کے ساتھ تب تک مارپیٹ کی جب تک کہ وہ مرنہ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس کی لاش کو جہان آباد کے گھوسی تھانہ علاقے میں پھینک دیا۔ اس معاملے میں شیوراج ساگی عرف رنجیت پٹیل عرف منا، سنگیتا کماری عرف چھوٹی، وکاس کمار عرف موہت یادو، کندن کمار، لال بہاری، وپر کمار، سچن رنجن، سمت کمار عرف جیتو، اور سنتوش کمار کو پٹنہ ایئرپورٹ پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سے سنٹو اور اس کے باقی ساتھی فرار تھے۔

سنٹو گینگ کے اراکین سوشل میڈیا پر لوہے، تانبے، ایلومینیم اور اسکریپ کے کاروبار میں شامل افراد کی تلاش کرتے تھے۔ وہ انہیں 100 کروڑ سے اوپر کے اسکریپ سودوں کے وعدوں کا لالچ دیتے تھے۔ وہ دوسری ریاستوں کے تاجروں کو لالچ دے کر پٹنہ لے جاتے اور اغوا کرتے۔ ان کے بنک کھاتوں میں پیسے منگوا کر اسے لوٹ لیتے۔

ایس پی اجے کمار نے بتایا کہ سنٹو عرف کئی بینکوں کی ویب سائٹس کو بھی ہیک کرتا تھا۔ جب کوئی کریڈٹ کارڈ کے لیے اپلائی کرتا تھا تو وہ لوگوں کو کسٹمر کیئر اہلکار کے طور پر فون کرتا تھا۔ وہ بڑی چالاکی سے لوگوں کے موبائلز میں اے پی کے فائلیںانسٹال کرواتا اور ان کے موبائل تک رسائی حاصل کر لیتا تھا۔ وہ جامتاڑا اور دیوگھر میں اپنے دیگر سائبر فراڈ پارٹنرز کے ساتھ تمام تفصیلات شیئر کرتا تھا۔ مختلف لوگ مختلف طریقوں سے سائبر فراڈ کا ارتکاب کرتے تھے۔ موبائل ملنے پر وہ لوگوں کے بینک اکاو¿نٹس تک رسائی حاصل کرتے تھے اور بیلنس چیک کرنے کے بعد اس سے پیسے نکال لیتے تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande