
تہران،17جنوری(ہ س)۔ایران میں احتجاج کے کم ہونے اور ملک میں نسبتاََ امن و سکون کے واپس آنے کے بعد نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس نے بتایا کہ انٹرنیٹ کنکشن میں بہت معمولی اضافہ ہوا ہے، اس کے بعد ملک میں مکمل بندش کے 200 سے زیادہ گھنٹوں گزر چکے ہیں۔نیٹ بلاکس نے آج ہفتے کے روز ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 200 گھنٹے کے بندش کے بعد انٹرنیٹ کنکشن میں بہت معمولی اضافہ ہوا ہے۔لیکن اس نے نشاندہی کی کہ انٹرنیٹ کنکشن کی سطح ابھی بھی معمول کے صرف تقریباً 2 فیصد پر ہے اور کسی بھی بڑی بحالی کے آثار موجود نہیں ہیں۔ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ رابطے کی پابندیاں مرحلہ وار ہٹائی جائیں گی۔ سب سے پہلے SMS یعنی ٹیکسٹ میسجز کی سہولت بحال کی جائے گی، پھر ملکی انٹرنیٹ نیٹ ورک کے ذریعے مکمل کنکشن فراہم کیا جائے گا اور مقامی میسجنگ ایپس جیسے ایتا، سروش وغیرہ کی سہولت فعال کی جائے گی، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی فارس نے بتایا۔تیسرا مرحلہ بین الاقوامی انٹرنیٹ سے دوبارہ رابطہ بحال کرنے کا ہوگا۔ایرانی حکام نے پہلے کہا تھا کہ انٹرنیٹ تک رسائی محدود کرنے کا فیصلہ بیرونی سائبر حملوں اور تخریب کاری سے بچاو¿ کے لیے لیا گیا تھا۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکام پر الزام لگایا کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف مظالم کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ ایران میں 28 دسمبر سے احتجاجی لہر شروع ہوئی، جس کی بنیاد اقتصادی شکایات تھیں۔ ابتدا میں یہ تہران کے بڑے بازار کی بندش تک محدود تھی، لیکن بعد میں یہ احتجاج حکمرانوں کے خلاف تنقید میں بدل گیا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan