زیڈ ایس آئی کے سائنس دانوں نے کیسیلین کی نئی نسلیں دریافت کیں
کولکاتا، 16 جنوری (ہ س)۔ ہندوستانی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے مہاراشٹر کے شمالی مغربی گھاٹوں میں انتہائی نایاب، زیر زمین رہنے والے ایمفیبین کی ایک نئی نسل دریافت کی ہے۔ اس نئی نسل کا نام گیگینیوفس والمیکی رکھا گیا ہے۔ یہ دریافت اہم ہے کیونکہ یہ ایک د


zsi 

کولکاتا، 16 جنوری (ہ س)۔ ہندوستانی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے مہاراشٹر کے شمالی مغربی گھاٹوں میں انتہائی نایاب، زیر زمین رہنے والے ایمفیبین کی ایک نئی نسل دریافت کی ہے۔ اس نئی نسل کا نام گیگینیوفس والمیکی رکھا گیا ہے۔ یہ دریافت اہم ہے کیونکہ یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں اس جینس میں کسی نئی نوع کی پہلی سائنسی شناخت کی نشاندہی کرتی ہے۔ مخلوقات کے اس گروہ کو سائنسی دنیا میں اکثر ”ہڈن ایمفیبین“ کہا جاتا ہے۔

یہ نسل پہلی بار 2017 میں مہاراشٹر کے ستارہ ضلع کے والمیکی سطح مرتفع علاقے سے جمع کی گئی تھی۔ اسے کولکاتا میں واقع زولوجیکل سروے آف انڈیا (زیڈ ایس آئی) کے ایک سینئر سائنسدان ڈاکٹر کے پی دنیش نے دریافت کیا تھا۔ اس کا نام دریافت کی جگہ کے قریب واقع تاریخی مہارشی والمیکی مندر کے اعزاز میں رکھا گیا تھا۔ یہ اہم تحقیق بین الاقوامی سائنسی جریدے فیلومیڈوسا میں شائع ہوئی ہے۔ یہ مطالعہ زولوجیکل سروے آف انڈیا، ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی، بالاصاحب دیسائی کالج اور مہادیئی ریسرچ سینٹر کے سائنسدانوں کی مشترکہ کوشش تھی۔

کیسیلین بغیر پیروں والے ، کینچوئے جیسے ایمفیبین ہوتے ہیں جو مٹی اور نامیاتی تہوں کے اندر رہتے ہیں۔ وہ نہ تو مینڈکوں کی طرح آوازیں نکالتے ہیں اور نہ ہی آسانی سے دکھائی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی دریافت انتہائی مشکل ہو تی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق گیگینوفس گروپ کی شناخت میدانی سطح پر کرنا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ انہیں عام طور پر’بلائنڈکیسیلین‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی آنکھیں ہڈی دار کھوپڑی کے نیچے چھپی ہوتی ہیںاور یہ دیکھنے اور چلنے میں بالکلکینچوئے کی طرح نظر آتے ہیں۔ اسی لیے، سائنسدانوں کو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ ایک نئی نوع ہے،برسوں تک جسمانی اور جینیاتی تجزیہ کرنا پڑا۔

مغربی گھاٹ دنیا میں حیاتیاتی تنوع کا ایک بڑا ہاٹ اسپاٹ تصور کیا جاتا ہے، پھر بھی کیسیلین ایمفیبین ان میں سے ہیں جنہیں کم سے کم سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 9,000 معلوم ایمفیبین میں سے صرف 231 کیسیلینہیں۔ ہندوستان میں ریکارڈ کی گئی 457 ایمفیبیننسلوںمیں سے 42 کیسیلین ہیں، جب کہ مغربی گھاٹوں میں 26 مقامی انواع ہیں، جن میں سے 11 کا تعلق گیگینوفسگروپ سے ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کیسیلین ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مٹی میں سرنگ بنا کر، وہ اسے ہوا دار کرتے ہیں، اس کی ساخت کو بہتر بناتے ہیں اور مٹی میں رہنے والے کیڑوں کو کھاکر ماحولیاتی توازن برقرار رکھتے ہیں۔ یہ پرندوں، رینگنے والے جانوروں اوردودھ پلانے والے چھوٹے جانداروں کے لیے خوراک کا ایک اہم ذریعہ بھی ہیں۔ ارتقائی طور پر، انہیں آبی اور زمینی زندگی کے درمیان ایک اہم ربط سمجھا جاتا ہے۔

زولوجیکل سروے آف انڈیا کی ڈائریکٹر ڈاکٹر دھرتی بنرجی نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی تقریباً 41 فیصد ایمفبین انواع کو معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ ان نایاب مخلوقات کی دستاویز کرنا وقت کے خلاف ایک دوڑ ہے۔ اگر ان کی بروقت شناخت اور حفاظت نہ کی گئی تو بہت سی انواع بغیر کسی پہچان کے ہی ختم ہو سکتی ہیں۔

کنزرویشن ماہر، نرمل یو کلکرنی کے مطابق یہ دریافت صرف شروعات ہے۔ جینیاتی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ شمالی مغربی گھاٹوں میں اب بھی بہت سی نامعلوم انواع چھپی ہو سکتی ہیں۔ سائنسی شناخت کے بعد ہی ان ”چھپے ہوئے ایمفیبین‘ کو تحفظ کے مرکزی دھارے میں لایا جا سکتا ہے اور ان کے نازک رہائش گاہوں کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande