
سنگاپور، 16 جنوری (ہ س)۔ سنگاپور کی سیاست میں جمعرات کو بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملی، جب وزیر اعظم لارنس وونگ نے ورکرز پارٹی کے رہنما پریتم سنگھ کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے فوری اثر سے ہٹا دیا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے ورکرز پارٹی سے نئے رکن پارلیمنٹ کی نامزدگی کی مانگ کی ہے، جو اس معاملے سے منسلک نہ ہو۔
یہ فیصلہ پارلیمنٹ کے ذریعے 14 جنوری 2026 کو لیے گئے اس فیصلے کے بعد آیا، جس میں پریتم سنگھ کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے ناموزوں قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، پریتم سنگھ کو پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے جھوٹی گواہی دینے کے معاملے میں قصوروار گردانا گیا تھا، جسے ان کے خلاف سنگین برتاو کی خلاف ورزی مانا گیا۔
وزیر اعظم لارنس وونگ نے 15 جنوری کو جاری اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ انہوں نے اس پورے معاملے پر باریکی سے غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پریتم سنگھ کی مجرمانہ سزایابی اور پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی نااہلی کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے ان کا لیڈر آف دی اپوزیشن برقرار رہنا اب ممکن نہیں ہے۔ وونگ نے کہا کہ یہ قدم قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کے وقار اور جمہوری اداروں کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم وونگ کی پیپلز ایکشن پارٹی (پی اے پی) کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہے۔ اس کے باوجود 2025 کے عام انتخابات کے بعد پریتم سنگھ کو دوسری مدت کار کے لیے لیڈر آف دی اپوزیشن کے طور پر برقرار رکھا گیا تھا۔
یہ پیش رفت پارلیمنٹ میں لیڈر آف دی ہاوس اندرانی راجہ کے ذریعے 14 جنوری کو پیش کیے گئے تجویز کے منظور ہونے کے بعد سامنے آئی۔ تجویز میں کہا گیا تھا کہ پریتم سنگھ کا برتاو اور 2021 میں سابق ورکرز پارٹی رکن پارلیمنٹ رئیسہ خان کے ذریعے پارلیمنٹ میں دیے گئے جھوٹے بیان سے جڑے معاملے میں عدالت کی سزایابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ لیڈر آف دی اپوزیشن سے متوقع اعلیٰ اخلاقی اور آئینی معیاروں پر کھرے نہیں اترتے۔
پریتم سنگھ کی پیدائش سنگاپور میں ہوئی، جبکہ ان کی خاندانی جڑیں ہندوستان کے پنجاب سے جڑی ہیں۔ انہوں نے سنگاپور میں ابتدائی تعلیم پوری کی اور بعد میں کنگز کالج لندن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ پیشے سے وکیل رہے پریتم سنگھ نے سیاست میں قدم رکھنے کے بعد تیزی سے شناخت قائم کی۔ سال 2018 میں وہ ورکرز پارٹی کے جنرل سکریٹری بنے اور 2020 میں سنگاپور کے لیڈر آف دی اپوزیشن مقرر کیے گئے۔
2025 کے عام انتخابات میں ورکرز پارٹی نے اپنے ووٹ شیئر میں اضافہ کرتے ہوئے تقریباً 14 فیصد حمایت حاصل کی تھی۔ پارٹی نے پریتم سنگھ کو عہدے سے ہٹائے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کا جائزہ اندرونی عمل کے تحت لیا جائے گا اور مناسب وقت پر اپنا موقف واضح کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن