
مہاراشٹر میں اے آئی ایم آئی ایم کا عروج، ممبئی، تھانے اور مراٹھواڑہ میں مضبوط موجودگی، اورنگ آباد میں 33 نشستوں پر جیت یقینیممبئی، 16 جنوری (ہ س)۔ مہاراشٹر کی بلدیاتی سیاست میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی کارکردگی نے سب کو چونکا دیا ہے۔ ووٹوں کی گنتی سے سامنے آنے والے رجحانات کے مطابق پارٹی نے ریاست کی 11 میونسپل کارپوریشنوں میں 60 سے رائد نشستوں پر سبقت حاصل کر کے خود کو ایک اہم شہری سیاسی قوت کے طور پر تسلیم کروایا ہے۔ اورنگ آباد میں 33 نشستوں پر جیت یقینی سمجھی جا رہی ہے۔شہری مراکز میں پارٹی کی بڑھتی ہوئی موجودگی خاص طور پر نمایاں رہی۔ ممبئی میں اے آئی ایم آئی ایم کے 3 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ تھانے میں پارٹی نے 5 نشستوں پر سبقت حاصل کی ہے، جس سے ممبئی کے اطراف کے علاقوں میں اس کی سیاسی جڑیں مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اورنگ آباد میں میں پارٹی نے سب سے بہتر مظاہرہ کیا ہے، جہاں 16 امیدوار آگے ہیں۔ یہ نتائج اس بات کا اشارہ ہیں کہ پارٹی نہ صرف اپنے روایتی علاقوں میں مضبوط ہے بلکہ دیگر خطوں میں بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ریاست کے دیگر حصوں میں بھی اے آئی ایم آئی ایم کی موجودگی محسوس کی گئی ہے۔ ناندیڑ میں 9 اور دھولیہ میں 8 نشستوں پر برتری کے علاوہ امراوتی اور ناگپور میں بھی پارٹی کے امیدوار آگے بتائے جا رہے ہیں، جس سے اس کے پھیلتے ہوئے اثر کا اندازہ ہوتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران اسدالدین اویسی نے مہاراشٹر میں 19 جلسوں سے خطاب کیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان جلسوں میں ملنے والی عوامی حمایت نے پارٹی کو شہری سیاست میں ایک فیصلہ کن کھلاڑی بنا دیا ہے۔ ان نتائج نے نہ صرف حکمراں اتحاد بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے لیے بھی نئی سیاسی حکمت عملیوں کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے