
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ سدھارمیا نے کہا کہ میڈیا رپورٹوں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ویڈیواس بات کا اشارہ ہیں کہ ووٹنگ کے دوران استعمال ہونے والی ”انمٹ“ سیاہی کو سینیٹائزر، ایسٹون اور دیگر کیمیکلز سے آسانی سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے انکشافات نے انتخابی عمل کی ساکھ پر سنگین سوال اٹھائے ہیں اور یہ مسئلہ اب مہاراشٹر کی سرحدوں سے نکل کر پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ کوئی الگ -الگ واقعہ نہیں ہے بلکہ ووٹنگ کے تقدس کے بارے میں ان خدشات کا حصہ ہے جو وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی اور سنجیدہ سوالات سے انکارکرنا، توجہ ہٹانے کی کوشش کرنا یا خاموشی اختیار کرلینا جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنیادی تحفظات کو کمزور کرنا اور شہریوں کے تحفظات کو نظر انداز کرنا جمہوریت کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ اسے نقصان پہنچاتا ہے۔
وزیر اعلی سدھارمیا نے انتخابی کمیشن سے پورے معاملے میں فوری طور پر مداخلت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور ضروری اصلاحی اقدامات کئے جانے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا سب سے ضروری ہے اور اس پر کسی بھی سطح پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد