غیر قانونی واکی ٹاکی فروخت کرنے پر میٹا، امیزن، فلپ کارٹ، میشو پر دس -دس لاکھ روپے کا جرمانہ عائد
نئی دہلی، 16 جنوری (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے ملک میں بڑے ای- کامرس پلیٹ فارم کی جوابدہی طے کرنے کے لئے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ سینٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی (سی سی پی اے) نے ایمیزون اور فلپ کارٹ سمیت آٹھ ای -کامرس کمپنیوں پر -10 10 لاکھ روپے کا جرمان


walki-talki 

نئی دہلی، 16 جنوری (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے ملک میں بڑے ای- کامرس پلیٹ فارم کی جوابدہی طے کرنے کے لئے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ سینٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی (سی سی پی اے) نے ایمیزون اور فلپ کارٹ سمیت آٹھ ای -کامرس کمپنیوں پر -10 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

اتھارٹی نے امیزن، فلپ کارٹ، میٹا (فیس بک مارکیٹ پلیس) اور میشو سمیت آٹھ اداروں پر غیر قانونی واکی ٹاکی لسٹنگ اور فروخت پر کل 44 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ میشو، میٹا پلیٹ فارمز (فیس بک مارکیٹ پلیس)، فلپ کارٹ اور امیزن پر 10-10 لاکھ روپے اور چمیا، جیو مارٹ، ٹاک پرو اور ماسک مین ٹوائے پر ایک ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق میشو، میٹا، چیمیا، جیو مارٹ اور ٹاک پرو نے اپنے جرمانے ادا کر دیے ہیں، جبکہ باقی پلیٹ فارمز سے ادائیگیوں کا انتظار ہے۔

سی سی پی اے نے صارف تحفظ ایکٹ 2019 اور ٹیلی مواصلاتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئےغیر قانونی واکی -ٹاکی کی لسٹنگ کرنے اور فروخت کرنے والے ای کامرس پلیٹ فارم کے خلاف از خود نوٹس لیتے ہوئے یہ کارروائی شروع کی ہے۔ اتھارٹی نے مختلف پلیٹ فارم پر 16970 سے زیادہ تعمیل نہ کرنے والے پروڈکٹ کی لسٹنگ کئے جانے کے بعد 13 ای- کامرس پلیٹ فارم-چیمیا ، جیو مارٹ ، ٹاک پرو ، میشو ، ماسک مینٹوائیز ، ٹریڈ انڈیا ، آنترکش ٹیکنالوجیز ، وردان مارٹ ، انڈیا مارٹ ، میٹا پلیٹ فارمز انک (فیس بک مارکیٹ پلیس) فلپ کارٹ ، کرشنا مارٹ اور امیزن کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

سی سی پی اے کی تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ یہ پلیٹ فارم پرسنل موبائل ریڈیوز (پی ایم آر) کی فروخت میں سہولت فراہم کر رہے تھے جو لائسنس سے مستثنیٰ فریکوئنسی بینڈ (446.0-446.2 میگاہرٹز) سے باہر کام کر رہے تھے۔ قانون کے مطابق ایسے آلات کو فروخت کرنے یا چلانے سے پہلے’ آلات کے قسم کی منظوری (ای ٹی اے )‘ سرٹیفیکیشن لازمی ہے۔ ان پلیٹ فارم پر واکی ٹاکیاں فروخت کی جا رہی تھیں جن کے پاس ضروری لائسنس یا تکنیکی منظوری نہیں تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande