تھوک مہنگائی کی شرح دسمبر میں0.83 فیصد تک پہنچی
نئی دہلی، 14 جنوری (ہ س)۔ مہنگائی کے معاملے میں عام آدمی کو جھٹکا دینے والی خبر آئی ہے۔ خوردہ افراط زر کے بعد دسمبر میں تھوک مہنگائی 0.83 فیصد تک پہنچ گئی۔اشیائے خوردنی، غیر غذائی اشیا اور تیار شدہ اشیا کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر اضافے سے تھوک م
Wholesale-inflation-rose-to-083-percent-in-Dec


نئی دہلی، 14 جنوری (ہ س)۔ مہنگائی کے معاملے میں عام آدمی کو جھٹکا دینے والی خبر آئی ہے۔ خوردہ افراط زر کے بعد دسمبر میں تھوک مہنگائی 0.83 فیصد تک پہنچ گئی۔اشیائے خوردنی، غیر غذائی اشیا اور تیار شدہ اشیا کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر اضافے سے تھوک مہنگائی کی شرح بڑھی ہے۔ یہ گزشتہ آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

وزارت تجارت و صنعت نے بدھ کوجاری کردہ اعداد و شمار جاری میں بتایا کہ تھوک قیمت کے اشاریہ (ڈبلیو پی آئی) پر مبنی ہول سیل مہنگائی دسمبر میں بڑھ کر 0.83 فیصد ہوگئی۔ نومبر میں یہ منفی 0.32 فیصد اور اکتوبر میں منفی 1.21 فیصد تھی۔ دسمبر 2024 میں تھوک مہنگائی کی شرح 2.57 فیصد تھی۔

وزارت صنعت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”دسمبر 2025 میں تھوک مہنگائی کی شرح میں اضافہ بنیادی طور پر دیگر مینوفیکچرنگ، معدنیات، مشینری اور آلات کی تیاری، کھانے پینے کی اشیاءاور ٹیکسٹائلز وغیرہ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔“

اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 0.43 فیصد کمی ہوئی جو کہ نومبر میں 4.16 فیصد تھی۔ دسمبر میں سبزیوں کی مہنگائی میں 3.50 فیصد کمی ہوئی، جو نومبر میں 20.23 فیصد تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں تیار شدہ مصنوعات کی مہنگائی 1.82 فیصد رہی جو نومبر 2025 میں 1.33 فیصد تھی۔غیر اشیائے خوردنی میں مہنگائی دسمبر میں 2.95 فیصد رہی جبکہ نومبر میںیہ 2.27 فیصد تھی۔ ایندھن اور بجلی کے شعبوں میں مہنگائی دسمبر میں 2.31 فیصد رہی ،جبکہ نومبر میں 2.27 فیصد تھی۔

اس سے پہلے دسمبر میں، سبزیوں، انڈے اور دالوں سمیت باورچی خانے کے ضروری سامان کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے خوردہ افراط زر تین ماہ کی بلند ترین سطح 1.33 فیصد تک پہنچ گئی۔ نومبر میں یہ 0.71 فیصد تھی۔ اس سے پہلے کی بلند ترین سطح ستمبر میں 1.44 فیصد تھی۔

غور طلب ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) خوردہ افراط زر کی نگرانی کرتا ہے۔ گزشتہ مہینے، آر بی آئی نے رواں مالی سال 2025-26 کے لیے اپنی افراط زر کی پیش گوئی کو پچھلے 2.6 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دیاتھا۔ رواں مالی سال میں اب تک مرکزی بینک نے پالیسی سود کی شرح یعنی ریپو ریٹ میں 1.25 فیصد کی کمی کی ہے، جو اب کم ہو کر 5.5 فیصد ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande