
واشنگٹن، 14 جنوری (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی اسلامی حکومت کے حکم پر وہاں مظاہرین کے ساتھ تشدد کیا جا رہا ہے۔ مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 12,000 ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ وہ مدد بھیج رہے ہیں۔ کچھ دیر پہلے کیے گئے اس اعلان میں یہ صاف نہیں کیا گیا ہے کہ یہ مدد کس طرح کی ہوگی۔
’ایران انٹرنیشنل‘ کی رپورٹ میں اس سارے واقعے پر اہم جانکاری دی گئی ہے۔ اس میں ٹرمپ انتظامیہ کی ہلچل کے علاوہ ایران کے جلاوطن شہزادے رضا پہلوی کے حوالے سے بھی صورتحال پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ پہلوی نے منگل کو کہا کہ ایران میں بدامنی کے سبب مرنے والوں کی تعداد حالیہ دنوں میں بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے مظاہرین کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔
’فاکس نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق پہلوی نے کہا، ’’افسوسناک خبر یہ ہے کہ گزشتہ دو دنوں میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ یہ 11/9 کے دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے لوگوں کی تعداد سے چار گنا زیادہ ہے۔ اب تک جو جانکاری ملی ہے، اس کے مطابق کم از کم 12,000 لوگ مارے گئے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’نہتے مظاہرین کو مارنے کے لیے فوجی ہتھیاروں، اے کے-47 ، بکتر بند ٹرکوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کی لاشیں بلڈوزر سے اٹھائی جا رہی ہیں۔‘‘
’ایران انٹرنیشنل‘ کے ایڈیٹوریل بورڈ نے ذرائع اور میڈیکل ڈیٹا کے جائزے کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا کہ 8 اور 9 جنوری کی رات احتجاجی مظاہرے کے دوران کم از کم 12,000 لوگ مارے گئے۔ اس پر نیدرلینڈ، اسپین اور فن لینڈ سمیت کئی یورپی ملکوں نے مظاہرین پر کارروائی کی مخالفت کرنے کے لیے ایران کے سفیروں کو طلب کیا۔
ایران کے موجودہ حالات سے ناراض وہاں کے سب سے بڑے سنی مذہبی رہنما مولوی عبدالحامد نے منگل کو ملک بھر کے شہروں میں مظاہرین کے قتل کی مذمت کی اور وارننگ دی کہ ایسے احکامات دینے والوں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے ایکس پر کہا، ’’تہران اور ملک کے دیگر شہروں میں کچھ ہی دنوں میں ہزاروں مظاہرین کا قتل عام افسوسناک ہے۔ اس واقعے نے ایران کو غم اور غصے میں ڈبو دیا ہے اور دنیا بھر کے آزادی پسند لوگوں کے ضمیر کو گہری چوٹ پہنچائی ہے۔ ایسا حکم دینے والا آخرت میں بھی خدائی عذاب کا حقدار ہوگا۔‘‘
دریں اثنا امریکی نمائندہ کلاڈیا ٹینی نے منگل کو ایکس پر ایک تصویر پوسٹ کی۔ اس میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تصویر کو سگار سلگانے کے لیے جلایا جا رہا ہے۔ اس طرح کی احتجاج والی تصویریں جم کر وائرل ہو رہی ہیں۔
نیویارک کی ریپبلکن ہاوس ممبر نے کہا، ’’اگر آپ کے پاس ہیں تو انہیں جلاو۔‘‘
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن