
نئی دہلی، 14 جنوری (ہ س)۔ ڈنمارک کے عالمی نمبر 3 اور چار بار عالمی چمپئن شپ میں تمغہ جیتنے والے بیڈمنٹن کھلاڑی اینڈرس اینٹونسن دہلی میں مسلسل تیسرے سال انڈیا اوپن سپر 750 بیڈمنٹن ٹورنامنٹ سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ اینٹونسن نے دارالحکومت میں موجودہ بلند فضائی آلودگی کو اس کی وجہ بتائی۔
اینٹونسن نے بدھ کے روز انسٹاگرام پر لکھا“بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میں نے مسلسل تیسرے سال انڈیا اوپن سے کیوں دستبرداری اختیار کی ہے۔ دہلی میں اس وقت آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ ان حالات میں یہاں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد ہونا چاہیے۔“تاہم 28سالہ کھلاڑی نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ اگست میں اسی مقام پر منعقد ہونے والی بی ڈبلیو ایف ورلڈ بیڈمنٹن چیمپئن شپ کے دوران صورتحال میں بہتری آئے گی۔
اینٹونسن نے کہا”امید کرتاہوں کہ گرمیوں میں، جب عالمی چمپئن شپ دہلی میں منعقد ہوگی، تب صورتحال بہتر رہیں گی ۔“
قابل ذکر ہے کہ وہ عالمی چیمپئن شپ میں اب تک ایک چاندی اور تین کانسے کے تمغے جیت چکے ہیں۔ اینٹونسن پر بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن (بی ڈبلیو ایف) نے ڈرا کے اعلان سے قبل ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے پر 5,000 امریکی ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ انہوں نے آخری بار 2023 میں انڈیا اوپن میں کھیلا تھا جہاں وہ دوسرے راو¿نڈ میں ہار گئے تھے۔
بی ڈبلیو ایف کے پلیئر کمٹمنٹ رولز کے مطابق، ”ٹاپ کمٹڈ پلیئرز“ (سنگلز میں ٹاپ 15 اور ڈبلز میں ٹاپ 10) کو ورلڈ ٹور 750، ورلڈ ٹور 1000 اور ورلڈ ٹور فائنلز ایونٹس میں شرکت کرنے کی ضرورت ہے۔ کھلاڑیوں کو چوٹ یا طبی چھوٹ کے بغیر ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے پر بھاری جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اینٹونسن نے بی ڈبلیو ایف سے استثنیٰ کی اپیل کی تھی لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا۔ تاہم، قوانین میں تجویزہے کہ کھلاڑی ٹورنامنٹ کی سائٹ پر پہنچ کر اور ایک دن کے لیے پروموشنل یا میڈیا سرگرمیوں میں حصہ لے کر چھوٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی راستے کو موجودہ عالمی چیمپئن اور عالمی نمبر 1 شی یو چی نے اختیار کیا تھا، جنہوں نے ٹورنامنٹ نہیں کھیلا لیکن دہلی آکر تشہیری سرگرمیوں میں حصہ لیا ۔
اس دوران ، کوریا کی عالمی نمبر 1 مردوں کی ڈبلز جوڑی کم وون ہو اور سیو سیونگ جائی نے بھی بدھ کو اپنے افتتاحی میچ سے ٹھیک پہلے نام واپس لے لئے ۔ سیو نے کندھے کی انجری کا حوالہ دیا ہے۔
اینٹونسن کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے ، جب ایک دن قبل ہی ان کی ہم وطن میا بلیچفیلٹ کی جانب سے اندرا گاندھی انڈور اسٹیڈیم میں صفائی اور حالات کے بارے میں تشویش کا اظہارکیا گیا تھا۔ ٹورنامنٹ کوکے ڈی جادھو انڈور اسٹیڈیم سے بڑے اندرا گاندھی انڈور اسٹیڈیم میں منتقل کر دیا گیا ہے۔بلیچفیلٹ نے بڑے مقام کی تعریف تو کی لیکن حالات کو اب بھی چیلنجنگ قرار دیا۔
یہ منتقلی جزوی طور پر اگست میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ کے لئے اس مقام کو ٹیسٹ ایونٹ کے طور پر استعمال کرنے کے مقصد سے کی گئی ہے۔ کچھ دوسرے کھلاڑیوں نے بھی دہلی کی سردی کی وجہ سے وارم اپ میں دشواری ہونے کی بات کہی ہے۔
اس معاملے پر بیڈمنٹن ایسوسی ایشن آف انڈیا کے جنرل سکریٹری سنجے مشرا نے واضح کیا کہ بلیچ فیلٹ کے تبصرے کھیلوں کے اہم میدان کے بارے میں نہیں تھے۔
انہوں نے کہا”میا کے تبصرے عام حالات اور ذاتی صحت کی حساسیت سے متعلق تھے، نہ کہ انڈیا اوپن کے مرکزی مقام سے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹورنامنٹ کے مقام اچھی طرح سے مینٹین کیا گیا ہے۔“
مشرا نے مزید کہا کہ وارم اپ ایریا کے طور پر استعمال ہو رہے کے ڈی جادھو اسٹیڈیم کے بارے میں انہوں نے اپنی ذاتی رائے بتائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی میدان کو صاف ستھرا، دھول سے پاک اور پرندوں سے پاک رکھا گیا ہے اور بہت سے کھلاڑیوں نے وہاں کے حالات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد