ایل او سی پر مشتبہ پاکستانی ڈرون پر فوج نے فائرنگ کی
جموں, 14 جنوری (ہ س)۔ بھارتی فوج نے منگل کی شام جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار سے بھارتی حدود میں داخل ہونے والے متعدد مشتبہ پاکستانی ڈرونز کو مار گرانے کے لیے فوجی جوانوں نے فائرنگ کی۔ تاہم یہ ڈرون منجاکوٹ سیکٹر م
Drone. Su


جموں, 14 جنوری (ہ س)۔ بھارتی فوج نے منگل کی شام جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار سے بھارتی حدود میں داخل ہونے والے متعدد مشتبہ پاکستانی ڈرونز کو مار گرانے کے لیے فوجی جوانوں نے فائرنگ کی۔ تاہم یہ ڈرون منجاکوٹ سیکٹر میں کچھ دیر تک منڈلانے کے بعد واپس پاکستان کی جانب لوٹ گئے۔حکام کے مطابق راجوری ضلع میں گزشتہ تین دنوں کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب بھارتی فوج نے پاکستانی ڈرونز پر فائرنگ کی ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی جموں و کشمیر میں ایل او سی کے قریب ڈرونز کی موجودگی کا پتہ چلا، بھارتی فوج نے کاؤنٹر اَن مینڈ ایریل سسٹم (یو اے ایس) اقدامات پر عمل درآمد کیا۔

تقریباً شام سات بجے، راجوری کے چنگس علاقے کے دونگا گالا کے اوپر چند پاکستانی ڈرونز کے بھارتی حدود میں داخل ہونے پر فوجی جوانوں نے فائرنگ کی، جس کے بعد یہ ڈرونز غائب ہو گئے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ واپس دوسری جانب چلے گئے۔ اسی طرح شام 7:35 بجے کے قریب اگلے محاذ پر واقع ڈھیری دھارا گاؤں کے اوپر دو ڈرون نما اشیاء کی نقل و حرکت دیکھی گئی، جنہیں نشانہ بنانے کے لیے متعدد زندہ راؤنڈ فائر کیے گئے۔

حکام نے بتایا کہ مشتبہ ڈرونز کلالی کی سمت بڑھنے کے بعد واپس پلٹ گئے۔ اس کے بعد اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تلاشی آپریشن شروع کیا گیا کہ ڈرونز کے ذریعے اسلحہ یا منشیات کی کوئی کھیپ نہ گرائی گئی ہو۔اتوار کے روز نوشہرہ سیکٹر میں گانیا-کلسیاں گاؤں کے اوپر ڈرون سرگرمی دیکھے جانے پر سرحد پر تعینات فوجی جوانوں نے میڈیم اور لائٹ مشین گنوں سے فائرنگ کی تھی۔ اسی دن راجوری کے علاقے تریاتھ، کالاکوٹ کے خبّر گاؤں، پونچھ ضلع کے منکوٹ علاقے کے ٹین-ٹوپا اور سامبہ ضلع کے رام گڑھ سیکٹر کے چک ببرال گاؤں میں بھی ڈرون کی نقل و حرکت دیکھی گئی، تاہم یہ پروازیں چند منٹ بعد واپس لوٹ گئیں۔اس سے قبل جمعہ کی رات سانبہ کے گھگوال علاقے کے پلوڑا گاؤں میں بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستان سے ڈرون کے ذریعے گرائی گئی اسلحہ کی ایک کھیپ برآمد کی گئی تھی، جس میں دو پستول، تین میگزین، 16 راؤنڈ اور ایک گرینیڈ شامل تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande