داغی اور دل بد ل امیدواروں سے ووٹروں میں ناراضگی ، پارٹی ٹکٹوں پر سوال، عوامی اعتماد متزلزل
ممبئی، 14 جنوری (ہ س)۔ وسئی ویرار سٹی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے داغی، باغی اور دلبدلُو امیدواروں کو ٹکٹ دیے جانے پر ووٹروں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ جو رہنما کل تک ایک دوسرے کے خلاف کھلے
POLITICS MAHA VVCMC POLL VOTERS DISCONTENT


ممبئی، 14 جنوری (ہ س)۔ وسئی ویرار سٹی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے داغی، باغی اور دلبدلُو امیدواروں کو ٹکٹ دیے جانے پر ووٹروں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ جو رہنما کل تک ایک دوسرے کے خلاف کھلے عام الزامات عائد کر رہے تھے، آج وہی ایک دوسرے کے ساتھ انتخابی میدان میں نظر آ رہے ہیں، جس سے شہریوں میں بداعتمادی اور حیرت کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔الیکشن کے اعلان کے بعد ریاست بھر میں سیاسی جوڑ توڑ اور دل بدلی میں تیزی آئی، جسے کئی جماعتیں اپنی طاقت میں اضافے کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ تاہم اس کا دوسرا رخ بھی سامنے آیا ہے، کیونکہ باہر سے آئے امیدواروں کو ترجیح دیے جانے پر پارٹی کے پرانے اور وفادار کارکن خود کو نظرانداز محسوس کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کے خلاف کئی مقامات پر کھلا احتجاج دیکھنے کو ملا ہے۔ناراض کارکنوں میں سے متعدد نے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ جو جماعت اپنے دیرینہ کارکنوں کا احترام نہیں کر سکتی، وہ عوام کے مفادات کا تحفظ کیسے کرے گی۔ یہی پیغام مختلف ذرائع سے ووٹروں تک پہنچایا جا رہا ہے، جس کے باعث ووٹر بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ ووٹ کس کو دیا جائے۔اسی تناظر میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ اس بار نوٹا کو ملنے والے ووٹوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں ووٹروں کے رجحان کا حتمی اندازہ تو نتائج کے بعد ہی ہو سکے گا، مگر ناراضگی کی لہر سیاسی جماعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے۔فی الحال وی وی سی ایم سی انتخابات میں مہایوتی کے تحت بی جے پی، شیو سینا (شندے)، بہوجن وکاس اگھاڑی، کانگریس اور شیو سینا (ادھو) سمیت دیگر جماعتیں میدان میں ہیں، جبکہ اصل مقابلہ مہایوتی اور بہوجن وکاس اگھاڑی کے درمیان مانا جا رہا ہے۔ کئی بڑی جماعتوں نے دوسری پارٹیوں سے آنے والے رہنماؤں کو امیدوار بنایا ہے، جس پر سب سے زیادہ اعتراض سامنے آ رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق وی وی سی ایم سی حلقے میں تقریباً 12,34,690 ووٹر ہیں۔ یہاں کل 29 پرابھاغ بنائے گئے ہیں، جن میں سے 28 پرابھاغ میں 4، جبکہ ایک پرابھاغ میں 3 نشستیں ہیں۔ مجموعی 115 نشستوں میں سے 58 خواتین اور 57 مردوں کے لیے مخصوص کی گئی ہیں، جن میں او بی سی کے لیے 31، ایس سی اور ایس ٹی کے لیے 10 اور عام زمرے کے لیے 74 نشستیں شامل ہیں۔ یہاں 15 جنوری کو ووٹنگ اور 16 جنوری کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande