گجر بکروال یوتھ ویلفیئر کانفرنس نے خانہ بدوش کنبوں کو ہراساں کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔
جموں, 13 جنوری (ہ س)۔ جموں و کشمیر گجر بکر وال یوتھ ویلفیئر کانفرنس اور جموں و کشمیر فاریسٹ رائٹس کولیشن نے ضلع راجوری کے مہری گجراں علاقے میں سات خانہ بدوش بکروال خاندانوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں
گجر بکروال یوتھ ویلفیئر کانفرنس نے خانہ بدوش کنبوں کو ہراساں کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔


جموں, 13 جنوری (ہ س)۔

جموں و کشمیر گجر بکر وال یوتھ ویلفیئر کانفرنس اور جموں و کشمیر فاریسٹ رائٹس کولیشن نے ضلع راجوری کے مہری گجراں علاقے میں سات خانہ بدوش بکروال خاندانوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو وہ بھرپور تحریک شروع کریں گی۔تنظیموں کا الزام ہے کہ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران گزشتہ دو برسوں سے جنگلاتی اراضی کے تحفظ کے نام پر ان خاندانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جو کہ فاریسٹ رائٹس ایکٹ 2006 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ قانون جنگلات میں رہنے والی برادریوں کے روایتی حقوق کو تسلیم اور محفوظ بناتا ہے۔

تنظیموں نے کہا کہ یہ کارروائیاں آئین ہند کے آرٹیکل 21 کی بھی خلاف ورزی ہیں، جو شہریوں کو زندگی اور روزگار کا حق فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افسران ان حقوق کی پامالی کے مرتکب پائے گئے تو ان کے خلاف ایس سی اور ایس ٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔

تنظیموں کے مطابق متاثرہ خاندانوں کے پاس راشن کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ اور آدھار کارڈ سمیت تمام درست دستاویزات موجود ہیں، جو اسی علاقے میں درج ہیں، اس کے باوجود ان پر دباؤ برقرار ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر طے شدہ پائیدار ترقیاتی اہداف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں پائیدار ترقیاتی ہدف نمبر 10، یعنی عدم مساوات کے خاتمے، کے بھی منافی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ مقامی سرپنچ شازیہ تبسم چوہدری نے گزشتہ دو برسوں کے دوران متعدد مرتبہ یہ معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا، تاہم خاندانوں کو بے دخلی سے بچانے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ مسلسل غیر یقینی صورتحال نے متاثرہ خاندانوں کے روزگار کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی ہے۔

تنظیموں نے وزیر جاوید احمد رانا سے اپیل کی کہ وہ ذاتی طور پر مداخلت کریں اور ملوث افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں۔ ساتھ ہی قبائلی امور کے محکمے سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت نوڈل ایجنسی کا کردار ادا کرتے ہوئے قصوروار افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کرے۔انہوں نے مقامی رکن اسمبلی اور دیگر سیاسی قیادت کی خاموشی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور اور بے زمین طبقات کے حقوق کا تحفظ کریں۔ تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے میں سنجیدہ کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کو مزید تیز کیا جائے گا اور مکمل تحریک شروع کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande