
جموں, 13 جنوری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اپوزیشن بی جے پی کے ارکانِ اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ ہر ایم ایل اے کو ترقیاتی منصوبوں کی صورتحال سے متعلق تفصیلی تحریری معلومات فراہم کی جائیں گی۔
یہ یقین دہانی وزیر اعلیٰ نے جموں ضلع کی مجموعی ترقیاتی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران دی، جس میں اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے، آبپاشی سہولیات میں بہتری، سیلاب بحالی کے کاموں کو مضبوط بنانے اور فنڈز کے مؤثر استعمال پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ہر ایم ایل اے کو ایک تفصیلی مکتوب موصول ہوگا، جس میں ان منصوبوں کی نشاندہی کی جائے گی جن پر کام کیا جا سکتا ہے، جو تاحال شروع نہیں ہو سکے، ان کی وجوہات اور آئندہ کا لائحہ عمل شامل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی منصوبے کو ترجیح دی جائے اور پھر اسے پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ آپ کو ایک خط کے ذریعے بتایا جائے گا کہ ہم کیا کر رہے ہیں، کیا کر چکے ہیں اور مستقبل میں کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ سب کو صورتِ حال سے آگاہ رکھا جا سکے۔وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے شروع کی گئی مشن یووا سرگرمیوں کے انعقاد کے دوران متعلقہ حلقوں کے ایم ایل ایز کو اعتماد میں لیا جائے۔
سیلاب سے مستقل بحالی کے کاموں کے لیے 1400 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے، عمر عبداللہ نے ہدایت دی کہ جموں ضلع کے لیے مختص حصے کا دانشمندانہ استعمال کیا جائے تاکہ دیرپا اور پائیدار حل یقینی بنائے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پانی کی سطح 2014 جیسی ہے، اس لیے بحالی کے کام اسی تناظر میں منصوبہ بند ہونے چاہئیں تاکہ آئندہ شدید بارشوں میں بنائے گئے اثاثے ضائع نہ ہوں۔ بحالی عارضی نہیں بلکہ مستقل ہونی چاہیے۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے کیپیکس کے تحت شروع کیے گئے ترقیاتی کاموں کو دستیاب فنڈز کے مطابق جلد مکمل کرنے کی ہدایات بھی دیں۔
آبپاشی کے شعبے پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے نہروں کے آخری سروں میں زمینی سطح پر جامع معائنہ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ گاد نکاسی اور کسانوں کو پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ وزیر کو ہدایت دی کہ مقامی ایم ایل ایز کے ساتھ مل کر معائنے کا شیڈول تیار کیا جائے۔
ماضی کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نہروں کی گاد نکاسی نہ ہونے کے باعث آخری علاقوں کے کسان اکثر متاثر ہوتے رہے ہیں، جس سے بروقت پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہو پاتی۔
انہوں نے ہدایت دی کہ جہاں ممکن ہو، گاد نکاسی کے کاموں کو منریگا کے ساتھ ہم آہنگی میں انجام دیا جائے، تاکہ مزدوری کے اخراجات منریگا کے تحت پورے ہوں جبکہ مٹیریل اور مشینری کے اخراجات متعلقہ محکمہ برداشت کرے۔
نہری آبپاشی کی کمی کے باعث کسانوں کے پمپ استعمال کرنے کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے غیر مجاز بجلی کنکشن منقطع نہیں کیے جائیں گے بلکہ انہیں نان میٹرڈ کنکشن کے طور پر باقاعدہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس سال کسانوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کوئی اضافہ تجویز نہیں کیا جائے گا۔
جموں کے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مالی سال کے بقیہ مہینوں میں فنڈز کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔
دریں اثنا، وزیر اعلیٰ نے ضلع میں 13.48 کروڑ روپے مالیت کے ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ منصوبوں کے ای-سنگِ بنیاد رکھے اور 19.05 کروڑ روپے کے اسکولی تعلیم، ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ اور دیہی ترقی سے متعلق منصوبوں کا ای-افتتاح بھی کیا۔
انہوں نے سیوریج کلیکشن مشینیں، جن میں ٹرک پر نصب جیٹنگ کم سیور سکشن مشینیں شامل ہیں،اُن کا بھی افتتاح کیا۔
اس موقع پر کمیونٹی ہیلتھ سینٹر پالنوالا کے لیے ایک ایمبولینس کو بھی روانہ کیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر