
نئی دہلی ، 11 جنوری(ہ س)۔سپریم کورٹ آف انڈیا کے معزز جج جسٹس جے۔کے۔ مہیشوری نے کہا کہ کمرشیل اور کاروباری تنازعات کے مو¿ثر، تیز اور پائیدار حل کے لیے میڈی ایشن اب محض ایک متبادل طریقہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سائنسی عدالتی عمل بن چکا ہے، جسے موجودہ قانونی نظام میں لازمی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔ وہ دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ گلوبل میڈی ایشن کانفرنس سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ اس کانفرنس کا اہتمام برطانیہ کی معروف میڈی ایشن فرم Resolveify کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔
جسٹس مہیشوری نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ میڈی ایشن صرف ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسا سائنس بیسڈ جسٹس میکانزم ہے جو فریقین کے درمیان اعتماد، مکالمے اور باہمی مفاہمت کو فروغ دیتا ہے، خصوصاً تجارتی اور کاروباری معاملات میں جہاں طویل عدالتی کارروائیاں تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔
انہوں نے میڈی ایشن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہندوستانی تہذیب اور قدیم تاریخ کی مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے قدیم تا ریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تریتا ی±گ میں جامباو¿ن پہلے شخص تھے جس نے بھگوان رام چندر کو امن کے لیے میڈی ایشن کا مشورہ دیا، جس کے تحت انگد کو راون کے دربار میں سفیر بنا کر بھیجا گیا۔ اسی طرح ددواپر ی±گ میں شری کرشن نے کورَووں اور پانڈوو¿ں کے درمیان جنگ روکنے کے لیے ایک ماہر میڈی ایٹر کا کردار ادا کیا۔ تاہم، دونوں ہی مواقع پر میڈی ایٹر کا ایک فریق سے قریبی تعلق ہونے کے باعث غیر جانبداری پر سوال اٹھا اور ثالثی کامیاب نہ ہو سکی۔ جسٹس مہیشوری نے اس نکتے پر زور دیا کہ مو¿ثر میڈی ایشن کے لیے غیر جانب داری اور اعتماد بنیادی شرط ہے۔کانفرنس میں قانونی، عدالتی اور سماجی شعبوں کی متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں اسٹورٹ ہینسن، پردیپ رائے، ترون رانا، اتل سنگھل سمیت دیگر نامور ماہرین شامل تھے۔سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ) وینیت شرن نے اپنے خطاب میں جدید قانونی ڈھانچے میں میڈی ایشن کی بڑھتی ہوئی افادیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ نظام نہ صرف انصاف کی فراہمی کو تیز کرتا ہے بلکہ تنازعات کے انسانی پہلو کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔وہیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر آدیش اگروال نے وکلا اور قانونی پیشہ وروں پر زور دیا کہ وہ میڈی ایشن کی عملی مہارتیں سیکھیں اور عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ متبادل تنازعہ حل (اے ڈی آر) کو بھی فروغ دیں۔کانفرنس کے منتظم اور برطانیہ میں بطور پیشہ ور میڈی ایٹر خدمات انجام دینے والے ایڈوکیٹ چِراغ مِتّل نے بتایا کہ ان کی تنظیم کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر تنازعات کے تیز، کم خرچ اور خوشگوار حل کے لیے ایک مو¿ثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔کانفرنس کے اختتام پر تمام مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عدالتوں کے باہر تنازعات کے حل سے نہ صرف عدلیہ پر بوجھ کم ہوگا بلکہ کاروباری دنیا میں اعتماد، تعاون اور دیرپا تعلقات کو بھی فروغ ملے گا، جو ایک مضبوط اور متوازن معاشی نظام کے لیے ناگزیر ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais