
تھانے ، 12 جنوری (ہ س)۔ تھانے کے ڈومبیولی میں مہاراشٹر نونرمان سینا کو بڑا نقصان اس وقت پہنچا جب اس کے شہر صدر منوج گھارات نے اپنے درجنوں حامیوں کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ گھارات، جو برسوں سے راج ٹھاکرے کے قریبی ساتھی مانے جاتے تھے، کے اس فیصلے کو مقامی سیاسی منظرنامے کے لیے فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔منوج گھارات طویل عرصے تک ڈومبیولی میں منسے کی شناخت رہے، مگر حالیہ مہینوں میں انہیں مقامی سطح پر شدید دباؤ اور اختلافات کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق مہاوکاس آغادی اور ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا کے کارکنان کے ساتھ ٹکراؤ، پینل سازی پر اختلاف، امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی مہم میں عدم ہم آہنگی نے حالات کو مزید خراب کر دیا تھا۔بالآخر ان وجوہات کی بنیاد پر گھارات نے منسے سے ناتا توڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ریاستی بی جے پی صدر راویندر چوان کی موجودگی میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر گھارات نے الزام لگایا کہ یو بی ٹی کے کارکنان قیادت کی ہدایات کو نظرانداز کر رہے تھے، جس کے باعث ایک ہی پینل میں منسے اور یو بی ٹی کے امیدوار آمنے سامنے آ گئے اور انتخابی حکمت عملی ناکام ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ اس افراتفری کی صورتحال میں عوام کے سامنے ٹھاکرے برانڈ کی درست نمائندگی ممکن نہیں رہی۔ بی جے پی میں شمولیت کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے گھارات نے کہا کہ بی جے پی ایک قومی سطح کی مضبوط جماعت ہے اور مرکز و ریاست میں مہایوتی حکومت ہونے کی وجہ سے شہر کے لیے ترقیاتی فنڈز اسی راستے سے حاصل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ دیگر جماعتوں کی پہنچ محدود ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے