
تل ابیب،12جنوری(ہ س)۔اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز ایرانی حکومت کو ظلم کا شکنجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے ایران جلد اس ظلم سے آزادی پا لے گا۔ نیتن یاہو کا یہ بیان ایران میں جاری تحریک کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ جو افراط زر اور مہنگائی کی شرح میں غیر معمولی اضافے کے خلاف تاجروں اور دکانداروں نے شروع کر رکھا ہے۔یہ احتجاج 28 دسمبر سے تہران اور بعض دیگر شہروں کے دکانداروں نے شروع کیا تھا۔ جو آہستہ آہستہ کئی دیگر شہروں اور صوبوں تک پھیل گیا اور اب تک اس احتجاج میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں کئی سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔اس احتجاج نے ایران کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ بظاہر یہ احتجاج مہنگائی کے خلاف تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ احتجاج ایرانی رجیم کے خلاف پر تشدد مظاہروں کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
اس دوران امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے اعلیٰ ترین سطح سے ایران میں ان مظاہروں کی کھلی حمایت کی جارہی ہے اور صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی بھی دی ہے کہ امریکہ مظاہرہن کے حق میں ایران پر فوجی مداخلت بھی کر سکتا ہے۔ اسرائیل نے اس متوقع امریکی فوجی مداخلت کے پیش نظر اپنے آپ کو ہائی الرٹ پر کر لیا ہے۔ایران جو پچھلی کئی دہائیوں سے امریکی و یورپی ممالک کی بد ترین اقتصادی پابندیوں کے باعث سنگین معاشی بحران سے دوچار ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے اس کی کرنسی انتہائی نیچے گر چکی ہے جبکہ مہنگائی آسمانوں سے چھونے لگی ہے۔ جس نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ایران میں اسی مہنگائی کے خلاف تحریک تیسرے ہفتے میں داخل ہو رہی ہے۔ 1979 کے انقلاب ایران کے بعد کئی بار ایسے احتجاجی مظاہروں کی صورت بن چکی ہے۔ تاہم اب کی بار بارہ روز جنگ کے بعد مہنگائی مزید بڑھ جانے سے تاجر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان کی حمایت میں کئی یورپی ملکوں سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔نیتن یاہو نے ان مظاہروں کی بنیاد پر امید ظاہر کی ہے کہ ایران جلد آزاد ہو جائے گا اور وہ دن دور نہیں جب ظلم کا طوق ٹوٹ جائے گا۔ نیتن یاہو اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ کابینہ اجلاس کے بعد ان کے دفتر نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا۔نیتن یاہو نے کہا اسرائیل ایران کی صورت حال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ اسرائیلی عوام اور پوری دنیا کے لوگ ان کے مطابق ایرانی شہریوں کے حوصلے کی تحسین کرتے ہیں۔
دریں اثنا اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے بھی اتوار کے روز ہی ایک بیان میں کہا اسرائیل ایرانی عوام کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتا ہے۔ سائر کا یہ بیان 'ایکس' پر سامنے آیا ہے۔سائر کے مطابق ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کے لوگ آزادی کے مستحق ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہمارا ایرانی عوام کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں، البتہ ایران اور اس کی حکومت کے ساتھ بڑے مسائل ہیں۔ کیونکہ اس کے ہاں سے انتہا پسندی برآمد کی جاتی ہے۔ وزیر اعظم اسرائیل کا کابینہ سے متعلقہ بیان اس وقت سا منے آیا ہے جب ایران نے امریکہ کی کھلی دھمکیوں کے بعد کہا ہے کہ حملے کی صورت میں اسرائیل اور امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے بھی قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے کوئی حملہ کیا تو مقبوضہ علاقوں کے علاوہ پانیوں میں بھی امریکی جہاز ہمارے لیے جائز ہدف ہوں گے۔یاد رہے ایران کی طرف سے یہ بات بارہا کہی جا چکی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایرانی تاجروں کو اشتعال دلانے کا کام کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan