جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سوامی وویکانند کی ایک سو چونسٹھ ویں یوم پیدائش کے موقع پر ’رن فار سودیشی ‘ منعقد کیا
شیخ الجامعہ اور مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سودیشی اور خود انحصاری کی اہمیت پر زور دیانئی دہلی،12جنوری(ہ س)۔سوامی وویکانند کی ایک سو چونسٹھویں یوم پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں نیشنل یوتھ ڈے کے اہتمام سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیمز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹ
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سوامی وویکانند کی ایک سو چونسٹھ ویں یوم پیدائش کے موقع پر ’رن فار سودیشی ‘ منعقد کیا


شیخ الجامعہ اور مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سودیشی اور خود انحصاری کی اہمیت پر زور دیانئی دہلی،12جنوری(ہ س)۔سوامی وویکانند کی ایک سو چونسٹھویں یوم پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں نیشنل یوتھ ڈے کے اہتمام سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیمز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ نے طلبہ میں سودیشی اور خو د انحصاری کی اہمیت کے سلسلے میں حساسیت بخشی کے لیے آج یونیورسٹی کرکٹ گراو¿نڈ نواب منصورعلی خان اسپورٹس کامپلیکس میں ’رن فار سودیشی ‘ منعقد کیا ۔عزت مآب شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آج صبح اس دوڑ کو جھنڈی دکھائی۔پروفیسر آصف نے سوامی وویکانند کے اخلاقی اور سماجی فلسفے کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ ”سوامی وویکانند کی تعلیمات و ارشادات پوری نو ع انسانی کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں ۔انہوں نے ہندوستانیوں میں قومی افتخار کو جاگزیں کیا۔آج کے ’رن فار سودیشی ‘ کے انعقاد کا مقصداسٹاف اراکین، طلبہ اور نوجوانوں میں سوامی وویکانند اور آتما نربھر بھارت اور جسمانی چستی پھرتی ،نظم و ضبط اور ٹیم ورک کے متعلق حساس بنانا تھا۔ سوامی وویکانند کی تعلیمات سے بیدار قومی اتحاد کی روح اجتماعی ذمہ داری اور کمیونی ٹی مصروفیت کو جاگزیں کرتی ہے اور تمام ہندوستانیوں کے لیے تحریک و تشویق کا موجب ہے۔“

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آتم نربھر بھارت کے مقصد کے حصول میں سودیشی کے تصور کی اہمیت پر زور دیا۔پروفیسر رضوی نے مزید کہا کہ ’سوامی وویکانند ایک دوراندیش فلسفی، استاد اور جدید ہندوستانی مفکر ہیں جو اپنے وقت کے آگے تھے۔اگر آج کے نوجوان سمجھیں اور آفاقی اچھائی، اجتماعی کوکشش،ذاتی ترقی و نشو ونما اور مضبوط متحدہ ذہن کے آدرشوں کے سلسلے میں ان کی تعلیمات پر عمل پیراہوں تو زندگی میں یقینا ً بڑے بڑے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔ایک یوتھ نیشن کے طورپر ہندوستان کی قوت اور طاقت اسی وقت پورے طورپر بروئے کار لائی جاسکتی ہے جب ملک کا نوجوان ان کے بتائے ہوئے قومی آدرشوں کے تئیں عہد بند ہو۔صداقت ،سماجی ہم آہنگی اور انسانیت کی بے لوث خدمت اور یوگ کے سلسلے میں ان کا نظریہ کافی پرقوت ہیں اور اور صدق دل سے ان کی پیروی کی گئی تو نوجوان نئی بلندیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔“پروفیسر نفیس احمد،اعزازی ڈائریکٹر (گیمز اینڈ اسپورٹس)جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’رن فار سودیشی ‘ کے حوالے سے اجمالی گفتگو کی اور فیکلٹی، اسٹاف اور طلبہ کی پرجوش شرکت کی تعریف کی۔انہوں نے کہا’ آپ مصروف ہوں تو ہر چیز آسان ہوتی ہے تاہم جب اگر آپ تساہلی برتتے ہیں تو کچھ بھی آسان نہیں رہ جاتا۔“ اسی اصول کو ذہن میں رکھتے اس’ رن ‘کا انعقاد کیا گیاہے کہ نوجوانوں کی خود مختاری ، صحت مند طرز زندگی ،پائے دار زندگی اور اندرون کیمپس کمیونی ٹی مصروفیت کو فروغ ہو۔محمد اسد ملک ،چیف پراکٹر جامعہ ملیہ اسلامیہ ،جناب سید عبدل الرشید،سیکوریٹی مشیر، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،ڈاکٹر محمد عابد ،اعزازی ڈائریکٹر (گیمس اینڈ اسپورٹس ،جامعہ ملیہ اسلامیہ)ڈاکٹر محمد ارشدخان، پرنسپل، جامعہ سیکنڈری اسکول ، جناب وقار حسین صدیقی، این ایس ایس کوآرڈی نیٹر جامعہ ملیہ اسلامیہ،مرحوم (ڈاکٹر) انور ہاشمی ، اے این او این سی سی (ایس ڈبلیو)۔ این سی سی،جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تدریسی و غیر تدریسی عملہ، جامعہ کی این سی سی اور این ایس ایس اکائیاں اور جامعہ یونیورسٹی اور اسکول کے طلبہ رن میں شریک ہوئے۔اور ایک سو پچاس سے زیادہ طلبہ ، فیکلٹی اور اسٹاف اراکین نے پرجوش شرکت کی ۔سوامی وویکانند جو بارہ جنوری اٹھارہ سو تیرسٹھ میں اس وقت کے کلکتہ میں بطور نریندر ناتھ دتا پیدا ہوئے ان کی یوم پیدا ئش کو نیشنل یوتھ ڈے کے طورپر منایا جاتاہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande