
نئی دہلی،12 جنوری(ہ س)۔ گزشتہ روز غالب اکیدمی،نئی دہلی میں ماہ جنوری کی شعری نشست کا اہتمام کیا گیا۔جس کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے کی۔انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ غالب کی شاعری میں کشش ہے۔اس لیے اس کی شاعری پوری دنیا میں چھائی ہوئی ہے۔دنیا کی بہت سی زبانوں میں غالب کی غزلوں کا ترجمہ ہورہا ہے۔غالب نے بہت کچھ سکھایا ہے۔موت سے پہلے،آدمی غم سے نجات پائے کیوں۔ غالب کی شاعری میں شباب ہے محبت ہے۔غزل میں مطلع کے لیے قافیہ مل جائے تو غزل مکمل ہوجاتی ہے۔غالب کے یہاں غیب سے مضامین آتے ہیں۔انگریزی کے شاعر جان کیٹس نے کہا تھا بارش ہوتی ہے تو درختوں کے پتے ہرے ہوجاتے ہیں ویسے ہی شاعری ہوتی ہے۔ غزل کہنے کے لیے بحر،وزن،مطلع مقطع اور قافیہ کا علم ضروری ہے۔اس موقع پر اردو اور ہندی کے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔ منتخب اشعار پیش خدمت ہیں
بحروبر میں کلام اس کا ہے
ذکر اس کا ہے نام اس کا ہے
ڈاکٹر جی آر کنول
اسے ہم خدا کی قسم دیکھتے ہیں
جو کوئی نہ دیکھے وہ ہم دیکھتے ہیں
متین امروہوی
کچھ عرصے سے ہم ڈھونڈھتے ہیں بچھڑے ہوئے کو
اس ہاتھ میں جو ہاتھ تھا وہ ہاتھ کہاں ہے
شفا کجگانوی
میر وغالب کا آباد دبستاں مجھ سے
ہلکا ہلکا ہے مگر ہے تو چراغاں مجھ سے
شاہد انور
ہم جسے سمجھے پجاری تھا کوئی بہروپیا
کیا پتا تھا ایک دن وہ دیوتا ہوجائے گا
کیلاش سمیر دہلوی
دامنی کے جو ہر اک غم کو اسیری بخشے
ساتھ میں ایسا ہی صیاد مجھے رکھنا ہے
کرشنا شرما دامنی
خواہشِ دید مکمل کردے
اس خردمند کو پاگل کردے
مہدی رمن
اس کی تعمیر ادھوری ہے ابھی تک بے شک
پھر بھی اس گھر میں کوئی شخص ٹھہر جاتا ہے
ارون شرما
اس موقع پرڈاکٹر شہلا احمد، سیما کوشک،پروین ویاس، پرویز مشران، نجم السلام ، پنڈت پریم شرما بریلوی،شکیل سونی پتی،شگفتہ سلیم ،اوم پرکاش پرکھر،رضوان الدین،سورج پال سنگھ ادنیٰ،مسکان ساغر ثنا، امثل فواز دہلوی وغیر نے اپنے اشعار پیش کیے۔ اس موقع پر ظہیر احمد برنی، ابو نعمان، کمال الدین، احترام صدیقی ،شری کانت کوہلی،محمد علی، عارف دہلوی اور فضل بن اخلاق نے بھی شرکت کی۔ سکریٹری نے بتایا کہ غالب اکیڈمی کی ماہانہ نثری نشست 31 جنوری 2026 کو ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais