ایران کے فضائی حدود کے قریب امریکی طیاروں کی پروازیں
واشنگٹن،12جنوری(ہ س)۔واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور باہمی دھمکیوں کے پس منظر میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ امریکی طیاروں نے ایران کی فضائی حدود کے قریب پروازیں کی ہیں۔اسرائیلی ٹی وی ’چینل 14‘ کے مطابق ایران کی فضائی
ایران کے فضائی حدود کے قریب امریکی طیاروں کی پروازیں


واشنگٹن،12جنوری(ہ س)۔واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور باہمی دھمکیوں کے پس منظر میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ امریکی طیاروں نے ایران کی فضائی حدود کے قریب پروازیں کی ہیں۔اسرائیلی ٹی وی ’چینل 14‘ کے مطابق ایران کی فضائی حدود کے قریب امریکی طیاروں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چینل نے بتایا کہ کئی کے سی-135آر طرز کے ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اور بی-52 بم بار ایک امریکی اڈے سے روانہ ہوئے۔ یہ پیش رفت وائٹ ہاو¿س کی جانب سے اتوار اور پیر کی درمیانی شب نشر کیے گئے ایک اشارے کے بعد سامنے آئی۔وائٹ ہاو¿س نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے اکاو¿نٹ سے ایک ٹویٹ میں لکھا خدا ہماری افواج کی حفاظت کرے، خدا امریکہ کی حفاظت کرے.. اور ہم ابھی آغاز میں ہیں۔اس ٹویٹ کے ساتھ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک تصویر بھی شیئر کی گئی، جس میں وہ 45–47 نمبر والی ٹوپی پہنے ہوئے نظر آتے ہیں، جو ان کی صدارتی مدتوں کی طرف اشارہ ہے، جبکہ نمایاں طور پر یہ نعرہ درج تھا ہم امریکہ کو ایک بار پھر عظیم بنائیں۔اس کے علاوہ پینٹاگون کی عمارت کے قریب واقع پیزا ریستورانوں میں آرڈرز میں غیر معمولی اضافہ نوٹ کیا گیا، جسے ڈوگ فائٹ نامی پلیٹ فارم ممکنہ قریب الوقوع حملوں کی پیش گوئی کے لیے ایک اشارے کے طور پر استعمال کرتا ہے، جیسا کہ اسرائیلی چینل 14 نے رپورٹ کیا۔

اسی دوران امریکی انتظامیہ کے دو عہدے داروں نے ویب سائٹ پولیٹیکو کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو منگل کے روز ایران سے متعلق کچھ فوجی آپشنز اور کئی غیر فوجی آپشنز پر بریفنگ دی جائے گی۔ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ٹرمپ کے سامنے موجود آپشنز ایران کے اندر محدود اور درست نشانے پر حملوں سے لے کر جارحانہ سائبر حملوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ ایسے آپشنز سے گریز کرنا چاہتی ہے جن کے نتیجے میں شہری آبادی پر وسیع اثرات مرتب ہوں، اسی لیے وہ آپشنز ترجیحی بنیادوں پر زیر غور ہیں جو خاص طور پر ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوں۔اسی طرح ایک سابق امریکی عہدے دار نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن ایلون مسک کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک کے تحت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اسٹیشن بھیجنے کے امکان پر بھی غور کر رہا ہے۔

دوسری جانب ایک دوسرے عہدے دار کا کہنا تھا کہ اس بات کی توقع نہیں کہ ٹرمپ ایران میں امریکی فوج بھیجیں گے۔ اس نے تصدیق کی کہ ’اس وقت کسی بڑی فوجی نقل و حرکت یا عسکری اثاثوں کی تعیناتی نہیں ہو رہی‘۔تاہم امریکی انتظامیہ کے بعض عہدے داروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کوئی بھی امریکی اقدام مشرق وسطی میں کشیدگی کو مزید بھڑکا سکتا ہے یا بڑھتی ہوئی احتجاجی تحریک کی حمایت کی کوشش میں الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اس سے قبل وضاحت کی تھی کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان پر غور کر رہے ہیں، ایسے وقت میں جب عوامی احتجاجات کے خلاف سخت کریک ڈاو¿ن کی اطلاعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا تہران اس سرخ لکیر کو عبور کر چکا ہے جس کا انہوں نے پہلے ذکر کیا تھا، یعنی مظاہرین کو قتل کرنا، تو صدر ٹرمپ نے جواب دیاایسا لگتا ہے کہ وہ ایسا کرنا شروع کر چکے ہیں۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ ’معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے‘ اور’کچھ بہت مضبوط آپشنز‘ پر غور کر رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم فیصلہ کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande