ترکمان گیٹ تشدد کیس: مزید دو گرفتار
نئی دہلی، 11 جنوری (ہ س)۔ پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے میں واقع درگاہ فیض الٰہی مسجد کے قریب غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے دوران ہوئے تشدد کے سلسلے میں پولیس نے اپنی کارروائی تیز کردی ہے۔ اتوار کو پولیس نے اس معاملے میں مزید دو ملزمان کو گرفتار ک
ترکمان گیٹ تشدد کیس: مزید دو گرفتار


نئی دہلی، 11 جنوری (ہ س)۔

پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے میں واقع درگاہ فیض الٰہی مسجد کے قریب غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے دوران ہوئے تشدد کے سلسلے میں پولیس نے اپنی کارروائی تیز کردی ہے۔ اتوار کو پولیس نے اس معاملے میں مزید دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت فہیم عرف سانو (30) اور محمد شہزاد (29) کے نام سے ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر پولیس نے اب تک 18 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق، گلی گوڑیا، ترکمان گیٹ کے رہنے والے فہیم عرف سانو، اور محمد شہزاد، کچا میر ہاشم بازار، چتلی قبر، چاندنی محل، تشدد کے دوران جائے وقوعہ پر موجود تھے اور ہجوم کو بھڑکانے اور پتھراو¿ کرنے میں ملوث تھے۔ دونوں کی شناخت تکنیکی شواہد اور ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر کی گئی۔ اس سے قبل پولیس نے واقعے کے سلسلے میں ترکمان گیٹ کے رہائشی محمد نوید، محمد فیض اور محمد عبید اللہ کو بھی گرفتار کیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ تجاوزات ہٹانے کے دوران اچانک صورتحال بگڑ گئی۔ پولیس اور میونسپل کارپوریشن کی ٹیموں پر پتھراو¿ شروع ہو گیاجس سے علاقے میں افراتفری پھیل گئی۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے اضافی پولیس فورس کو تعینات کرنا پڑا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے کئی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ تفتیش سی سی ٹی وی کیمروں، جائے وقوعہ سے ویڈیو فوٹیج، پولیس اہلکاروں کے جسم پر لگے کیمروں اور چہرے کی شناخت کے نظام کا استعمال کرتے ہوئے کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق 50 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، اور ان کے کردار کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande