
شملہ، 11 جنوری (ہ س)۔ نادون اسمبلی حلقہ کی باڑہ اور فاسٹ گرام پنچایتوں کے ایک وفد نے اتوار کو وزیر اعلیٰ ٹھاکر سکھویندر سنگھ سکھو سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے نادون علاقہ میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی کاموں پر تبادلہ خیال کیا اور پنچایت نمائندوں سے رائے بھی طلب کی۔وزیر اعلیٰ نے وفد کو بتایا کہ باڑہ پنچایت میں مجوزہ اسپائس پارک کا جلد ہی سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے علاقے کے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا اور مقامی طور پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ٹھاکر سکھویندر سنگھ سکھو نے نادون کے علاقے میں قدرتی کھیتی کو فروغ دینے پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں قدرتی کاشتکاری کے ذریعے ہلدی کی پیداوار کے بے پناہ امکانات ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت قدرتی کھیتی کی حوصلہ افزائی کے لیے کم از کم امدادی قیمت کو یقینی بنا رہی ہے۔ قدرتی کاشتکاری کے ذریعے اگائی جانے والی گندم کی امدادی قیمت 60 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنگی سب ڈویژن کو 15 اپریل 2025 کو مکمل طور پر قدرتی کاشتکاری کا سب ڈویژن قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، حکومت خام ہلدی کے لیے 90 روپے فی کلو گرام اور پنگی وادی میں اگائی جانے والی جو کے لیے 60 روپے فی کلو کی امدادی قیمت فراہم کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماچل پردیش ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے قدرتی کھیتی کے ذریعے اگائی جانے والی مصنوعات کے لیے کم از کم امدادی قیمت مقرر کی ہے۔ انہوں نے پنچایت کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کی عوامی فلاحی اسکیموں کے بارے میں معلومات ہر گاو¿ں تک پہنچائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان اسکیموں سے مستفید ہوسکیں۔
وزیراعلیٰ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ قدرتی کاشتکاری اور نئے ترقیاتی کاموں سے نداون خطے کی معیشت مضبوط ہوگی اور کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan