آپ نے گرووں کی توہین کے خلاف بی جے پی ہیڈکوارٹر پر زبردست احتجاج کیا، کئی رہنما حراست میں
نئی دہلی، 11 جنوری(ہ س)۔دہلی میں بی جے پی کے وزراءاور رہنماوں کی جانب سے سکھ گرووں کی بے ادبی کا معاملہ اتوار کے روز مزید سنگین ہو گیا۔ اتوار کو عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش کنوینر سوربھ بھاردواج کی قیادت میں پارٹی کے ایم ایل اے، کونسلرز، عہدیداران
آپ نے گرووں کی توہین کے خلاف بی جے پی ہیڈکوارٹر پر زبردست احتجاج کیا، کئی رہنما حراست میں


نئی دہلی، 11 جنوری(ہ س)۔دہلی میں بی جے پی کے وزراءاور رہنماوں کی جانب سے سکھ گرووں کی بے ادبی کا معاملہ اتوار کے روز مزید سنگین ہو گیا۔ اتوار کو عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش کنوینر سوربھ بھاردواج کی قیادت میں پارٹی کے ایم ایل اے، کونسلرز، عہدیداران اور بڑی تعداد میں کارکن سڑکوں پر اتر آئے اور پیدل مارچ کرتے ہوئے بی جے پی ہیڈکوارٹر پر زبردست احتجاج کیا۔ اس دوران آپ نے سکھ گرووں کی توہین کرنے والے بی جے پی کے وزراءاور رہنماوں سے عوامی معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔ جب آپ کے کارکن بی جے پی ہیڈکوارٹر پہنچنے والے تھے تو دہلی پولیس نے بیریکیڈ لگا کر انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا اور ایک ایک کرکے سب کو حراست میں لے لیا۔ سوربھ بھاردواج سمیت کئی رہنماوں کو پولیس آئی پی اسٹیٹ تھانے لے گئی، جہاں انہوں نے دھرنا دیا اور بی جے پی کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔آپ کا کہنا ہے کہ گرو صاحب کی توہین، ہندوستان برداشت نہیں کرے گا۔ بی جے پی حکومت کے وزراءکی جانب سے شری گرو تیغ بہادر جی کے تعلق سے بنائی گئی فرضی ویڈیو اور گرو مہاراج کی بے ادبی کے خلاف بی جے پی دفتر کے باہر عام آدمی پارٹی نے ہلہ بول احتجاج کیا۔ اس فرضی ویڈیو سے بی جے پی کی سکھ مخالف ذہنیت ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔جب بی جے پی کے وزراءاور رہنماوں کی جانب سے شری گرو تیغ بہادر جی اور سکھ سماج کی بے ادبی کے خلاف آپ کے رہنما اور کارکن سڑکوں پر اترے تو آمرانہ بی جے پی کی دہلی پولیس نے دہلی پردیش کنوینر سوربھ بھاردواج، سنجیو جھا سمیت کئی رہنماوں کو حراست میں لے لیا۔ اگر بی جے پی یہ سمجھ رہی ہے کہ عام آدمی پارٹی کے رہنماوں کو حراست میں لے کر وہ اپنا گناہ چھپا لے گی تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہے۔سوربھ بھاردواج نے موقع پر موجود پولیس انتظامیہ سے سوال کیا کہ جب بی جے پی نے آپ کے ہیڈکوارٹر کے باہر دو گھنٹے تک احتجاج کیا تھا تو دہلی پولیس کو کوئی دقت نہیں ہوئی۔ اس وقت بی جے پی کے پردیش صدر وریندر سچدیوا اور وزیر منجندر سنگھ سرسا کو حراست میں نہیں لیا گیا، لیکن اب جب عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے، کونسلرز اور بڑی تعداد میں کارکن بی جے پی ہیڈکوارٹر پر احتجاج کے لیے آئے ہیں تو انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔ آخر دہلی پولیس یہ دوہرا رویہ کیوں اپنا رہی ہے؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جب پنجاب پولیس ایک دن میں ویڈیو کلپ کی فارنسک جانچ کرا سکتی ہے تو دہلی پولیس کو 15 دن کیوں لگ رہے ہیں؟ اس کا صاف مطلب ہے کہ جان بوجھ کر دہلی حکومت ویڈیو کلپ کی جانچ کو ٹالنا چاہتی ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ کپل مشرا نے جعلسازی کی ہے۔اس موقع پر براری سے ایم ایل اے سنجیو جھا نے کہا کہ بی جے پی کے وزراء، اراکینِ اسمبلی اور رہنماوں نے اپنی گھٹیا سیاست کے لیے گرو صاحب کی توہین کی اور فرضی ویڈیو چلائی۔ اس سے سبھی کو ٹھیس پہنچی ہے، خاص طور پر سکھ برادری کے لوگ زیادہ دکھی ہیں کہ بی جے پی اپنی اوچھی سیاست کے لیے گرو صاحب کی بے ادبی کر رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی گرووں کی توہین کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرے گی۔سنجیو جھا نے کہا کہ بی جے پی نے ایک فرضی ویڈیو بنائی جس میں گرو صاحب کی توہین کی گئی۔ جب اس ویڈیو کی فارنسک لیب میں جانچ ہوئی تو وہ فرضی پائی گئی۔ کپل مشرا کی یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی تھی، یہ بات عام آدمی پارٹی پہلے دن سے کہہ رہی تھی۔ پنجاب میں اس ویڈیو کی فارنسک جانچ ہوئی اور یہ واضح ہو گیا کہ کپل مشرا کی بنائی گئی ویڈیو پوری طرح فیک اور ڈاکٹرد تھی۔ اس ویڈیو کے معاملے میں کپل مشرا کے خلاف پنجاب میں ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے۔گھنیندر بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، جو اخلاقیات پر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اگر ان میں اور بی جے پی کی قومی قیادت میں ذرا سی بھی اخلاقی جرا¿ت باقی ہے تو وہ کپل مشرا کو فوری طور پر برطرف کریں۔ کپل مشرا کے خلاف دہلی میں بھی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے اور بی جے پی انہیں جیل بھیجے۔ کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، اس لیے انہیں جیل جانا پڑے گا اور پنجاب پولیس کسی بھی وقت انہیں گرفتار کر سکتی ہے۔گھنیندر بھاردواج نے کہا کہ اگر بی جے پی نے کپل مشرا کے خلاف کارروائی نہیں کی اور انہیں برطرف نہیں کیا تو دہلی اور ملک کا سکھ سماج بی جے پی کو معاف نہیں کرے گا۔ بی جے پی کے خلاف یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک کپل مشرا کو برطرف نہیں کیا جاتا۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande