
حیدرآباد، 11 ۔ جنوری (ہ س)۔ ساتویں نظام میر عثمان علی خان کے پوتے نواب نجف علی خان نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کے بیان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام حیدرآباد کے خلاف دیاگیابیان نہایت قابلِ اعتراض، قابلِ مذمت اور ایک آئینی عہدے پر فائز شخص کے شایانِ شان نہیں ہے۔نواب نجف علی خان نے کہا کہ نظام آباد ضلع کا نام بدل کر اندور رکھنے کا معاملہ ایک الگ انتظامی فیصلہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے 58 سال پہلے انتقال کرجانے والے ساتویں نظام کا نام گھسیٹنا تاریخی لاعلمی یا دانستہ بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی زبان تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے مترادف ہے اور نہ صرف ایک عظیم شخصیت بلکہ پوری قوم کی اجتماعی یادداشت کی توہین ہے۔ نواب نجف علی خان نے کہا کہ ساتویں نظام نے انسانیت، تعلیم، صحت، ترقی، امن اور بھائی چارے کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں، جو دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ساتویں نظام ذات اور مذہب سے بالاتر ہو کر تمام طبقات کی خدمت کرتے تھے اور انہیں ہندوستان کے سب سے سیکولر حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ نظام کے انتقال پر ریاستی حکومت نے خصوصی گزٹ جاری کیا تھا اور ان کے جنازے میں تمام مذاہب کے لاکھوں افراد شریک ہوئے تھے۔نواب نجف علی خان نے کہا کہ نظام آباد کو زرعی اور صنعتی مرکز بنانے میں بھی نظام کا بڑا کردار رہا ہے۔ نظام ساگر ڈیم، نظام شوگر فیکٹری اور ریلوے نیٹ ورک اسی دور کی یادگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج یہ ادارے زوال کا شکار ہیں تو اس کی ذمہ داری بعد کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ تاریخی شخصیات پر۔واضح رہے کہ بی جے پی کے ایم پی ڈی اروند نے 9 جنوری کو کہا تھا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو نظام آباد ضلع کا نام بدل کر اندور رکھا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق