
نئی دہلی،11جنوری(ہ س)۔ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے زیر اہتمام عالمی کتاب میلہ، نئی دہلی کے دوسرے دن دو اہم ادبی مذاکروں بعنوان’نوجوان شاعروں سے ملاقات‘ اور ’شامِ افسانہ‘ کا انعقاد عمل میں آیا، جن میں ادب سے وابستہ اہلِ قلم، طلبہ اور شائقینِ ادب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ’شامِ افسانہ‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں ڈاکٹر نگار عظیم، ڈاکٹر شبانہ نذیر، ڈاکٹر رخشندہ روحی مہدی اور ڈاکٹر شہناز رحمن بطور پینلسٹ شریک ہوئیں، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ذاکر فیضی نے انجام دیے۔ مہمان مقررین نے افسانے کی تخلیق، اس کے فنی و فکری پہلووں اور عصری تقاضوں پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔ اس موقعے پر ڈاکٹر نگار عظیم نے کہا کہ افسانہ زندگی کی علامت ہے اور اسے خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، البتہ وقت کے ساتھ اس کی تکنیک میں تبدیلی آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ افسانہ خواہ علامتی، استعاراتی یا بعد جدید تناظر میں لکھا گیا ہو، قاری پہچان لیتا ہے کہ کون سا افسانہ دیرپا ہے۔ نوجوان افسانہ نگاروں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ان کی تحریریں مجموعی طور پر تسلی بخش ہیں، تاہم عجلت پسندی سے بچنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ افسانہ اگر سماجی مسائل سے جڑا ہو تو عمر کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت کو معیار قرار نہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فن ایک عبادت ہے اور اس کا ثمرہ فوری طور پر حاصل نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر شبانہ نذیر نے کہا کہ افسانہ کئی اجزا کا مجموعہ ہے جس کے کسی ایک جز کو علاحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ عمدہ افسانہ وہی ہے جو قاری کے ذہن میں محفوظ رہ جائے۔ انھوں نے ذکیہ مشہدی کو ایک اہم افسانہ نگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے افسانوں کے موضوعات اور پیشکش منفرد ہیں۔ سوشل میڈیا پر لکھے جانے والے افسانوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہر افسانے کو ایک ہی زمرے میں رکھنا درست نہیں، خواہ وہ پرنٹ فارم میں ہو یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر شیئر کیا گیا ہو۔ ڈاکٹر رخشندہ روحی مہدی نے کہا کہ موجودہ دور میں قارئین کی تعداد میں کمی ضرور آئی ہے لیکن اس سے زیادہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، مطالعے کے لیے اب بہت نئے پلیٹ فارم دستیاب ہیں اور اچھے قاری آج بھی موجود ہیں۔ انھوں نے اردو اور ہندی افسانوں کے موازنے سے احتراز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر زبان کا اپنا اسلوب اور مزاج ہوتا ہے۔ ڈاکٹر شہناز رحمٰن نے کہا کہ غیر جانبدار اور معیاری تنقید ہی ادب کو آگے بڑھاتی ہے۔ان کے مطابق افسانے کی قدر و قیمت کا تعین ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے فنی اور فکری پیمانوں پر ہونا چاہیے۔ انھوں نےمزید کہا کہ نئی نسل کے افسانہ نگاروں کو تنقید سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اسے تخلیقی ارتقا کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ مذاکرے کے اختتام پر تمام افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں سے منتخب اقتباسات بھی پیش کیے۔
اس سے قبل ’نوجوان شاعروں سے ملاقات‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں سالم سلیم، خوشبو پروین اور سفیر صدیقی نے شرکت کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب شمیم نے انجام دیے۔ اس موقعے پر سالم سلیم نے شاعری میں زبان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اچھی زبان کے بغیر معیاری شاعری ممکن نہیں۔ انھوں نے مشاعروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشاعرے ماضی میں بھی اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آج بھی لوگوں کو اردو زبان و ادب سے قریب کر رہے ہیں۔ خوشبو پروین نے کہا کہ شاعری کا شوق انھیں بچپن سے تھا، جس کا آغاز مدرسے سے ہوا اور یونیورسٹی تک پہنچتے پہنچتے شاعری ان کی شناخت بن گئی۔ انھوں نے کہا کہ شاعری میں معیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ سفیر صدیقی نے کہا کہ شاعری ایک فطری صلاحیت ہے اور موزونیت کے بغیر اچھی شاعری ممکن نہیں۔ انھوں نے غزل کو اپنی پسندیدہ صنف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ غزل میں ہی تجربات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مقبول ہونا معیار کی ضمانت نہیں۔
مذاکرے کے اختتام پر نوجوان شاعروں نے اپنے منتخب اشعار بھی سنائے، جنہیں حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan