
دربھنگہ ،11 جنوری (ہ س)۔مدرسہ رحمانیہ سوپول، بیرول، ضلع دربھنگہ میں ایک نہایت باوقار مسابقہ خطابت، مسابقہ حمد و نعت خوانی و نظم اور اجلاسِ تکمیلِ قرآن کا عظیم الشان انعقاد عمل میں آیا۔ یہ ہمہ جہت علمی و تربیتی پروگرام امیرِ شریعت، مفکرِ ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر و صدر مدرسہ رحمانی کی سرپرستی اور اساتذہ کرام کی خصوصی توجہات کا نتیجہ تھا، جن کی بصیرت افروز قیادت میں ادارہ مسلسل تعلیمی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
پروگرام کی صدارت ڈاکٹر مولانا محمد شہاب الدین ندوی ازہری صاحب، قائم مقام مہتمم مدرسہ رحمانیہ سوپول نے فرمائی۔ یہ پروگرام مختلف نشستوں پر مشتمل رہا، جن میں مسابق? خطابت، مسابقہ حمد و نعت خوانی و نظم اور بعد نمازِ مغرب اجلاسِ تکمیلِ قرآن مجید شامل تھا۔ پورے پروگرام کی مجموعی نگرانی مولانا محمد اسحاق صاحب قاسمی، ناظم انجمن اصلاح اللسان نے بحسن و خوبی انجام دی، جبکہ مختلف نشستوں کی نظامت اساتذہ کرام نے انجام دی۔مسابقات میں حکم کے فرائض قاضی مولانا محمد ابو شا?د صاحب رحمانی قاسمی، مولانا محمد آفتاب صاحب رحمانی، مولانا محمد ساجد حسین صاحب رحمانی اور مولانا محمد کوثر جمیلی قاسمی نے ادا کیے۔ مسابق? خطابت میں ساٹھ طلبہ جبکہ مسابق? حمد و نعت خوانی و نظم میں چوبیس طلبہ نے حصہ لیا، جس میں طلبہ نے اپنے علمی، فکری اور فنی جوہر کا بیرپور مظاہرہ کیا۔
اجلاسِ تکمیلِ قرآن مجید میں سولہ طلبہ نے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔ اس روحانی نشست کی نگرانی قاری عبدالسلام صاحب عرفانی نے کی، جبکہ نظامت کی ذمہ داری مولانا محمد ساجد حسین صاحب، ناظمِ تعلیمات (برائے امورِ طلبہ) نے ادا کی۔تاثراتی کلمات میں قاضی مولانا محمد ابو شا?د صاحب رحمانی قاسمی نے طلبہ کی محنت و لگن کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ یہ کاوشیں نہایت قابلِ تحسین ہیں اور اگر طلبہ اسی جذبے کے ساتھ محنت جاری رکھیں تو مستقبل میں بڑی کامیابیاں ان کا مقدر ہوں گی۔ اس موقع پر مفتی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی نے اپنے خطاب میں طلبہ کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ناظمِ انجمن کی انتھک جدوجہد کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ رحمانیہ سوپول بزرگوں کی امانت ہے جس پر اہلِ خیر اور اربابِ نسبت کی خصوصی توجہات رہی ہیں اس لیے الحمدللہ مدرسہ کے تمام شعبہ جات اپنے اپنے مشن میں سرگرم ہیں۔
اور حضرت امیرِ شریعت دامت برکاتہم کی سرپرستی میں شعب? دارالحکمت کا قیام عمل میں آیا، جس کی کامیابی ایک چھوٹے طالب علم کی عربی تقریر سے نمایاں ہوئی۔ بعد ازاں مسابقات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ مسابق? خطابت اور مسابق? حمد و نعت خوانی و نظم میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے ساتھ ساتھ حفظِ قرآن مجید مکمل کرنے والے تمام طلبہ کو نقد انعامات سے نوازا گیا۔مدرسہ رحمانیہ سوپول کے نائب مہتمم و سکریٹری، جناب مولانا مفتی توحید مظاہری، نے طلبہ کی شاندار کارکردگی پر مسرت کا اظہار کیا اور فرمایا کہ جس طرح حضرت امیرِ شریعت دامت برکاتہم کی سرپرستی اور توجہ سے یہ ادارہ دن بہ دن ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں یہ ادارہ نہ صرف اپنے معیار میں بلند ہوگا بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک روشن مثال قائم کرے گا۔
صدارتی خطاب میں ڈاکٹر مولانا محمد شہاب الدین ندوی ازہری صاحب نے مسابقات میں حصہ لینے والے تمام طلبہ کو مبارک باد پیش کی اور انجمن کے ناظم، اساتذ? کرام اور منتظمین کے حسنِ انتظام پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے مدرسہ رحمانیہ کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس ادارے کا قیام 1322ھ میں عمل میں آیا، جس میں اکابرین کی مخلصان? قربانیاں اور دعائیں شامل ہیں۔ انہوں نے مختلف ادوارِ صدارت کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ دور کو ترقی و استحکام کا دور قرار دیا اور بتایا کہ حضرت امیرِ شریعت دامت برکاتہم کی قیادت میں ادارہ مسلسل تعلیمی وسعت کی جانب بڑھ رہا ہے۔انہوں نے مدرسہ کی حالیہ تعلیمی ترقی کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا، نئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا اور دارالحکمت کا آغاز کیا گیا، جہاں اس وقت درجنوں طلبہ حفظ کے ساتھ ساتھ عربی، انگریزی اور اردو کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ رواں سال مدرسہ رحمانیہ سے سولہ طلبہ نے حفظِ قرآن مجید مکمل کیا جبکہ دارالحکمت سے بھی ایک طالب علم نے یہ سعادت حاصل کی۔آخر میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس باوقار اور یادگار پروگرام کی مکمل ریکارڈنگ فکر و نظر ٹی وی کے نمائندے مولانا محمد غفران صاحب رحمانی، انچارج دارالحکمت مدرسہ رحمانیہ سوپول نے کی ہے، جو ان شاءاللہ بہت جلد منظرِ عام پر آئے گی۔مولانا ڈاکٹر محمد شہاب الدین ندوی ازہری صاحب کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais