


اندور، 11 جنوری (ہ س)۔
صفائی کے لیے ملک بھر میں شناخت قائم کر چکے مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں گندے پانی سے ہوئی اموات نے اب سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ 21 لوگوں کی موت کے بعد کانگریس سڑکوں پر اتر آئی ہے اور حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے متاثرین کو انصاف دلانے کی مانگ کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں اتوار کو اندور کے بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی سے ہوئی اموات کے مخالفت میں کانگریس نے ’نیائے یاترا‘ نکالی۔ شہر کے بڑا گنپتی چوراہا سے شروع ہوئی نیائے یاترا راج واڑہ پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس نیائے یاترا میں بڑی تعداد میں کانگریس رہنما، کارکنان اور خاتون کانگریس کی عہدیداران شامل ہوئیں۔ یاترا کے دوران اندور کے میئر اور بی جے پی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی گئی۔ کانگریس نے اس واقعے کو انتظامی لاپرواہی بتاتے ہوئے مہلوکین کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کی مانگ کی، ساتھ ہی واقعے کے لیے ذمہ دار افسران اور عوامی نمائندوں کے خلاف قتل کا معاملہ درج کرنے کی مانگ بھی اٹھائی۔
مظاہرے کے دوران کارکنان نے ’گھنٹہ منتری مردہ باد‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔ نیائے یاترا میں ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری، سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ، اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار، سابق وزیر سجن ورما، مدھیہ پردیش کانگریس کے انچارج ہریش چودھری، اجے سنگھ سمیت کئی اراکین اسمبلی، کارپوریٹرز، سیوا دل اور خاتون کانگریس کے عہدیداران موجود رہے۔ یاترا کے دوران اس وقت ماحول اور گرما گیا، جب سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ اور اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار چلتی گاڑی کی چھت پر سوار تھے۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ اندور میں کارپوریٹر سے لے کر رکن پارلیمنٹ تک بی جے پی کا قبضہ ہے، لیکن اس کے باوجود عوام کو صاف پانی تک نصیب نہیں ہو رہا۔ یہ لڑائی لمبی ہے اور کانگریس گھر گھر جا کر لوگوں سے بات چیت کرے گی۔
اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے کہا کہ کانگریس اندور کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ اندور کے عوام کو صاف پانی، صاف سڑکیں اور بورنگ کا صاف پانی چاہیے۔ بھاگیرتھ پورہ میں ہوئے واقعے کے بعد حکومت اموات کے اعداد و شمار چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کئی جگہ پر آج ہندو سمیلن ہو رہا ہے، تو پہلے حکومت ہندو کو بچائے تو سہی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اندور کے کئی علاقوں میں گندا پانی سپلائی کیا جا رہا ہے، لیکن حکومت اس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ عام عوام کو صاف پانی پینے کا حق ہے، کوئی بھیک نہیں مانگی جا رہی ہے۔ اب تک اس واقعے میں 21 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ اس معاملے میں ذمہ دار لوگ قاتل ہیں اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
کانگریس رہنما جے وردھن سنگھ نے کہا کہ جس اندور شہر کو حکومت ہند نے صفائی میں نمبر ون کا درجہ دیا تھا، آج اسی شہر پر بھاگیرتھ پورہ کے واقعے کے سبب بدنما داغ لگ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں صرف چھوٹے افسران پر کارروائی کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ جے وردھن سنگھ نے مانگ کی ہے کہ میئر کو استعفیٰ دینا چاہیے، ایم آئی سی کے ممبران کو بدلا جانا چاہیے اور اس پورے معاملے میں سبھی ذمہ دار لوگوں کو عہدہ چھوڑنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے صاف ہے کہ بی جے پی کے وزیر، رہنما اور وزیر اعلیٰ گھمنڈ میں ڈوبے ہوئے ہیں، اسی وجہ سے مدھیہ پردیش میں ایسی دردناک وارداتیں ہو رہی ہیں۔
شہر کانگریس صدر چنٹو چوکسے نے کہا کہ یہ صرف کانگریس کی یاترا نہیں ہے، بلکہ بھاگیرتھ پورہ کے واقعے سے دکھی سبھی لوگوں کی یاترا ہے۔ اس میں وہ سبھی لوگ شامل ہوں گے جو اس دردناک حادثے سے متاثر ہیں۔ یاترا کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانا ہے۔ کانگریس نے مانگ کی ہے کہ ہر ایک متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دیا جائے۔ کانگریس رہنماوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جس شہر کو لگاتار کئی سالوں تک ملک کا سب سے صاف شہر قرار دیا گیا، وہیں گندے پانی سے لوگوں کی جان جانا سسٹم پر بڑا سوال کھڑا کرتا ہے۔ کانگریس نے صاف کیا کہ اس مسئلے پر وہ پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے اور انصاف کی لڑائی سڑک سے ایوان تک لڑی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن