مذہب اسلام میں تشدد کی نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی طرح سے کوئی راستہ ہے: الحاج عرفان احمد
نئی دہلی، 11جنوری(ہ س)۔ حج کمیٹی آف انڈیا اور سنٹرل وقف کونسل( حکومتِ ہند ) کے سابق رکن، ہندوستان کے ممتاز سماجی کارکن و فلاحی و اسلامی شخصیت اور انسانی حقوق کے مشہور علمبردار الحاج محمد احمد صاحب نے اپنے ایک پریس میڈیا کے نمائندوں اور اخبار نویسوں
مذہب اسلام میں تشدد کی نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی طرح سے کوئی راستہ ہے: الحاج عرفان احمد


نئی دہلی، 11جنوری(ہ س)۔ حج کمیٹی آف انڈیا اور سنٹرل وقف کونسل( حکومتِ ہند ) کے سابق رکن، ہندوستان کے ممتاز سماجی کارکن و فلاحی و اسلامی شخصیت اور انسانی حقوق کے مشہور علمبردار الحاج محمد احمد صاحب نے اپنے ایک پریس میڈیا کے نمائندوں اور اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اہم اورخاص گفت و شنید میں واضح کیا ہے کہ مذہب اسلام میں تشدد، بالخصوص ہجوم کے ذریعے قتل و غارت گری، کی نہ کوئی جگہ ہے اور نہ ہی کوئی جواز۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں پیش آنے والے ہجومی تشدد اور قتل جیسے واقعات ہم سب کو یہ مجبور کرتے ہیں کہ ہم دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے خود احتسابی کریں، ساتھ ہی ایسے عمل کی ہمیں مذمت کی بھی ضرورت ہے۔ محمد عرفان احمد صاحب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر پیغمبرِاسلام حضور محمد?، قرآن شریف یامذہب اسلام کے نام پر کسی انسان کی جان لے لی جائے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں شدید اخلاقی اور دینی انحراف ہورہاہے۔ جس دین کا بنیادی مقصد انسانی وقار اور عزتِ نفس کا تحفظ تھا، اسی دین کو انسانیت کی تذلیل کے لیے استعمال کیا جانا نہ صرف افسوسناک بلکہ خطرناک بھی ہے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک سیاسی یا قانونی بحران نہیں بلکہ ایک گہرا اخلاقی اور مذہبی بحران ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ ایک سنجیدہ اسلامی نقط? نظر ایک تلخ مگر واضح حقیقت سے شروع ہوتا ہے: توہینِ مذہب کے الزامات کے جواب میں ہجوم کے ذریعے تشدد کا مذہب اسلام میں کوئی جواز نہیں، تاہم یہ عمل قرآن کریم، سیرتِ نبوی ? اوراسلامی قانون کے مقاصد کے سراسر خلاف ورزی ہے۔ الحاج عرفان احمد نے قرآنِ مجید کی اس بنیادی تعلیم کی یاد دہانی کرائی:جس نے کسی ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا (سور? مائدہ: 32)۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس آیت مبارکہ میں غصے، مذہبی جذبات یا اشتعال کے لیے کوئی استثنا موجود نہیں، البتہ انسانی جان کی حرمت کسی عوامی رائے یاہجومی فیصلے کی محتاج نہیں ہے۔ انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کیا کہ برصغیر کے کئی حصوں میں توہینِ مذہب کے الزامات اجتماعی جنون کی شکل اختیارکر لیتے ہیں، جہاں افواہیں ثبوتوں کی جگہ لے لیتی ہیں، لہذا ہجوم عدالت بن جاتا ہے اور تشدد کو انصاف سمجھ لیا جاتا ہے۔ محمد عرفان احمد کے مطابق اسکا نتیجہ مذہب اسلام کا دفاع نہیں بلکہ اسکی مسخ شدہ تصویر ہے،لہذا اسلام کو اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے ہجوم کے ہاتھوں قتل و غارت کی ضرورت نہیں، کیونکہ حق اتنا کمزور نہیں ہو, تاکہ اسے زندہ رہنے کے لیے خونریزی سہنی پڑے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ قرآن کریم اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ اہلِ ایمان کو تمسخر، توہین اور اشتعال کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر اسکے جواب میں قرآن شریف کاحکم حیرت انگیز طور پرصبر و تحمل پر مبنی ہے۔ دراصل قرآن مجید کہیں بھی عام مسلمانوں کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ توہین کے جواب میں تشدد کریں، تاہم یہ خاموشی اتفاقی نہیں بلکہ ایک بلند اخلاقی حکمت کی عکاس ہے۔ مضبوط ایمان توہین سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ وقار کے ساتھ ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔محمد عرفان احمد جی نے سیرتِ نبویﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خود رسولِ اکرم ﷺ کو اپنی زندگی میں شدید توہین اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا، لہذا آپﷺ کوجھوٹا، شاعر او مجنون کہا گیا، البتہ طائف میں لہولہان کیا گیا، مگر آپ ﷺ نے کبھی ذاتی انتقام یا خود ساختہ انصاف کاراستہ اختیار نہیں کیا۔ فتحِ مکہ کے موقع پرعام معافی کااعلان آپ ﷺ کی اعلیٰ اخلاقی مثال ہے۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ نبی اکرم ﷺ کے کردار کو نظر انداز کر کے ان سے محبت کا دعویٰ کرنا کھلا تضادہے؛ انکے اسوہ کو پامال کر کے انکی ناموس کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اس امرکی بھی وضاحت کی کہ اگرچہ کلاسیکی فقہاءنے توہینِ مذہب کے مسئلے پر بحث کی ہے، مگر وہ ہمیشہ سخت قانونی حدود، ریاستی اختیار، منصفانہ عدالتی عمل اور توبہ کے مواقع کے ساتھ مشروط رہی ہے،تاہم یہاں تک کہ ابن تیمیہ، جنکے حوالے اکثر سیاق و سباق سے ہٹ کر دیے جاتے ہیں، نے بھی ہجومی تشدد اور فتنہ و انتشار کو واضح طور پر مسترد کیا، نیزحضرت امام ابوحنیفہ نے بھی سخت سزاو¿ں میں انتہائی احتیاط اور نرمی پر زور دیا۔ الحاج عرفان احمد کے مطابق آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ شریعت کا نفاذ نہیں بلکہ اسکا زوال ہے۔ انہوں نے خصوصی نشاندہی کی کہ جنوبی ایشیا میں توہینِ مذہب کے الزامات اکثر مذہبی اقلیتوں، غریبوں ،کمزورطبقات، اصلاح پسندوں اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کیخلاف استعمال کیے جاتے ہیں، نیز یہ انتخابی اطلاق اس حقیقت کو عیاں کرbتاہے کہ مسئلہ عقیدت سے زیادہ اقتدارbاور کنٹرول کا بن چکاہے، البتہ اسلام کو ذاتی دشمنی نکالنے اور غلبہ قائم کرنے کا ذریعہ بنایا جا رہاہے، جو قرآن کے بنیادی اصولِ عدل کی صریح خلاف ورزی ہے۔محمد عرفان احمدصاحب نے ممتاز عالمِ دین شیخ عبداللہ بن بیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ہر تعبیر جو خونریزی، خوف اور افراتفری کو جنم دے، نیز چاہے وہ مذہبی زبان میں لپٹی ہو،bاسلام کے مقاصد کے منافی ہے، لہٰذاجب توہینِ مذہب کے الزامات ہجوم کو مشتعل کرتے ہیں تو اسلام کا اخلاقی پیغام ناکام ہو جاتا ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ مسلم معاشروں کودفاعی غصے سے نکلکر اخلاقی اعتماد کی طرف بڑھنا ہوگا، نیز اسکے لیے ضروری ہے کہ مذہبی قائدین کھل کرہجومی تشدد کی مذمت کریں، مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اخلاقیات پر مبنی دینی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور اقلیتوں کے تحفظ کو دینی فریضہ سمجھا جائے،نہ کہ کسی پر احسان۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خاموشی غیرجانبداری نہیں ہوتی؛ جب اسلام کے نام پر ظلم ہو اور مسلمان خاموش رہیں تو۔ دراصل دین ہی مجروح ہوتا ہے۔آخر میں محمدعرفان احمد جی نے کہا کہ ہمارے سامنے دو واضح راستے ہیں: یا تو ہم اس راہ پرچلتے رہیں جہاں دین کو خوف، خونریزی اور جبر سے جوڑا جاتاہے، یا پھر اسلام کوعدل، نیز رحمت اور ضبطِ نفس پر مبنی ایک اخلاقی قوت کے طور پر دوبارہ پیش کریں, تاہمذہب اسلام کی حفاظت و تحفظ کے لیے لوگوں کوقتل کرنا ضروری نہیں، بلکہ اسکے لیے اخلاقی جرات درکارہے—یہ کہنے کی جرات کہ یہ تشدد غلط ہے، نیزغیر اسلامی ہے اور اسے ہرحال میں روکنا ہوگا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande