کسان بہبود سال میں کسانوں کی مجموعی بہبود کریں گے: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو
کسان بہبود سال میں حکومت کے 10 عہد، قدرتی اور نامیاتی کھیتی کو فروغ دیں گے کسان بہبود سال 2026 کا شاندار آغاز ہوا بھوپال، 11 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ریاست کے کسانوں کے لیے سال 2026 نئی امیدوں اور نئے م
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ’کسان بہبود سال 2026‘ کے افتتاحی موقع پر بڑے عوامی جلسے سے خطاب کیا


کسان بہبود سال 2026 کا ہوا شاندار آغاز


کسان بہبود سال میں حکومت کے 10 عہد، قدرتی اور نامیاتی کھیتی کو فروغ دیں گے

کسان بہبود سال 2026 کا شاندار آغاز ہوا

بھوپال، 11 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ریاست کے کسانوں کے لیے سال 2026 نئی امیدوں اور نئے مواقع کا سال ہوگا۔ کسان ہمارے ان داتا ہیں، جو اپنی محنت سے ملک اور سماج کا پیٹ بھرتے ہیں۔ کسانوں کو خود کفیل بنا کر ان کی خوشحالی یقینی بنانا ہی حکومت کا واحد مقصد ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اتوار کو بھوپال کے جمبوری میدان میں منعقدہ بڑے کسان کنونشن میں سال 2026 کو ’’کرشک کلیان ورش‘‘ (کسان بہبود سال) کے طور پر منانے کا باضابطہ اعلان کیا۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ حکومت کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گی۔ جدید تکنیک، عمدہ بیج، آبپاشی، ذخیرہ اندوزی اور بازار تک بہتر رسائی کے ذریعے کھیتی کو منافع بخش کاروبار بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت صرف روزی روٹی کا ایک ذریعہ ہی نہیں، بلکہ ریاست کی معیشت کی ریڑھ ہے۔ زرعی شعبے کی مضبوطی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کسان کنونشن کے دوران ای-وکاس، ڈسٹری بیوشن اینڈ زرعی کھاد سپلائی سلوشن سسٹم (وکاس پورٹل) کا افتتاح کیا۔ کسان بہبود سال 2026 میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے سمیت ان کی بہتری اور خوشحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں ایک شارٹ فلم کی نمائش بھی کی گئی۔ کسان کنونشن میں حکومت کی مختلف اسکیموں، انوویشنز اور مستقبل کے لائحہ عمل کی جانکاری بھی کسانوں کو دی گئی۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے پورا سال کسانوں کی بہبود کے لیے وقف کیا ہے۔ ہماری حکومت کھیتوں سے نکلنے والی پرالی سے بھی کسانوں کی آمدنی بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مدھیہ پردیش ملک کی واحد ایسی ریاست ہے جہاں گزشتہ سالوں کی کوششوں سے کھیتی کا رقبہ ڈھائی لاکھ ہیکٹر تک بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں پاروتی-کالی سندھ-چمبل (پی کے سی) ندی لنک اور کین-بیتوا ندی لنک قومی پروجیکٹ سمیت تاپتی گراونڈ واٹر ریچارج میگا پروجیکٹ سے ریاست کے 25 اضلاع میں 16 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ اضافی زرعی رقبہ سیراب ہو جائے گا۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسانوں کے مفاد میں ہم نے جو کہا، وہ کر کے دکھایا ہے۔ ریاست میں شری انّ پیداوار کو بڑھاوا دینے کے لیے ڈنڈوری ضلع میں ’مدھیہ پردیش اسٹیٹ شری انّ ریسرچ سینٹر‘ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس سے شری انّ کی پیداوار اور غذائی تحفظ کو نئی بلندی ملے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گوالیار میں سرسوں ریسرچ اور اجین میں چنا ریسرچ سینٹر قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے ان فصلوں کے معیار اور پیداوار بڑھانے پر خصوصی زور دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ہم ریاست کے 30 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو اگلے تین سال میں سولر پاور پمپ دیں گے۔ ہر سال 10 لاکھ کسانوں کو سولر پمپ دے کر انہیں ان داتا سے خود کفیل توانائی دینے والا بنائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں آبپاشی کے علاقے کا رقبہ لگاتار بڑھ رہا ہے۔ ابھی 65 لاکھ ہیکٹر ہے، اسے بڑھا کر سال 29-2028 تک 100 لاکھ ہیکٹر تک لے کر جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسان بہبود سال میں حکومت ریاست کے کسانوں کی مجموعی بہبود کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گی۔ سال بھر مختلف سرگرمیوں کے انعقاد کے ذریعے حکومت کے 16 سے زیادہ محکمے/وزارتیں آپسی تال میل سے کسانوں کو ان کا وقار لوٹائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سویابین کے بعد اب سرسوں کی فصل کو بھی ہم ’بھاوانتر یوجنا‘ کے دائرے میں لے کر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت پر مبنی صنعتوں کی ترقی میں کسانوں کی شراکت داری بڑھائی جائے گی۔ ایسی صنعت لگانے والوں کو حکومت سبسڈی دے گی۔ ریاست میں بیج جانچ کے کام سے جڑی سبھی لیبارٹریوں کو اور زیادہ مضبوط کر کے سبھی منڈیوں کو بھی جدید بنایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ محکمہ جاتی عملے کی تیز بھرتی کے لیے بھی ہماری حکومت کوشاں ہے۔ محکمہ زراعت اور اسٹیٹ ایگریکلچرل مارکیٹنگ (منڈی) بورڈ میں سبھی زمروں کے خالی عہدوں کو جلد از جلد پر کر کے ریاست میں زرعی نظام کو اور بھی مضبوط بنایا جائے گا۔ حکومت مائیکرو اریگیشن سسٹم کا دائرہ بڑھانے کی طرف بھی گامزن ہے۔ کسانوں کو ہونے والے فصل کے نقصان کا اب جدید تکنیک سے سروے کرایا جائے گا۔ اس سے کسانوں کو معاوضے کی رقم جلد از جلد مل سکے گی۔ کسانوں کی بہتری اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے زیرو فیصد شرح سود سے قرض فراہمی اسکیم آگے بھی جاری رہے گی۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ہم کسانوں کی زندگی میں خوشحالی لے کر آئیں گے۔ زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے صنعت کاروں کو آسان، شفاف اور ٹائم باؤنڈ انتظامات فراہم کرائے جائیں گے۔ زرعی مبنی اسٹارٹ اپ کو بڑھاوا دیں گے۔ میگا فوڈ پارک، زرعی پروسیسنگ کلسٹر اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو مضبوط کریں گے۔ ’کھیت سے فیکٹری تک‘ کے وژن کے تحت کسانوں کو سبھی قسم کی سہولیات فراہم کرائی جائیں گے۔ کھیت سے لے کر بازار تک کسان باصلاحیت، اہل اور خوشحال ہوں، یہی ہمارا واحد ہدف ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسان بہبود سال 2026 کے تحت سال بھر مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ فروری میں کودو-کٹکی بونس تقسیم، مارچ میں قدرتی کھیتی سیمینار اور مئی میں نرمداپورم کا مشہور ’آم مہوتسو‘ منعقد کیا جائے گا۔ اگست-ستمبر میں اندور میں ایف پی او کنونشن اور چھندواڑہ میں ایگری انفراسٹرکچر فنڈ پر ورکشاپس ہوں گی۔ اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں ’فوڈ فیسٹیول‘ اور نرسنگھ پور میں ’گنا مہوتسو‘ منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی سہولت کے لیے ہم آبپاشی کے لیے کافی پانی، بجلی، صفر فیصد سود پر قرض، فصلوں پر امدادی قیمت اور فصل بیمہ کی رقم کی وقت پر منتقلی کر رہے ہیں۔ حکومت ہر قدم پر کسانوں کے ساتھ ہے۔ کسانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ہم کسان بہبود سال کو کامیاب بنائیں گے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کنونشن کے مقام پر منعقدہ زرعی ترقیاتی نمائش کا افتتاح کیا۔ گائے ماتا کی پوجا اور انہیں روٹی کھلا کر کنونشن کا آغاز کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے نمائش کے ہر اسٹال میں جا کر معائنہ کیا اور متعلقہ لوگوں سے بات چیت بھی کی۔ نمائش میں دیسی غیر ملکی نسل کے مویشیوں کا مشاہدہ کیا۔ نمائش میں 65 قسم کے جدید زرعی آلات کا مظاہرہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے چراغ روشن کرنے کے ساتھ کنیا پوجن کر کے بڑے کسان کنونشن کا باضابطہ آغاز کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے محکمہ زراعت کی مختلف اسکیموں میں فائدہ بھی تقسیم کیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande