بنگلہ دیش میں ہندووں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آپ کا اتر پردیش کے تمام آٹھوں صوبوں میں احتجاج
نئی دہلی، 11 جنوری(ہ س)۔بنگلہ دیش میں ہندو برادری پر مسلسل بڑھتے حملوں، مندروں کو نشانہ بنائے جانے، خواتین اور بچوں کے ساتھ غیر انسانی درندگی اور خوف کے ماحول میں زبردستی نقل مکانی کے خلاف اتوار کو عام آدمی پارٹی نے اتر پردیش کے تمام آٹھوں صوبوں می
بنگلہ دیش میں ہندووں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آپ کا اتر پردیش کے تمام آٹھوں صوبوں میں احتجاج


نئی دہلی، 11 جنوری(ہ س)۔بنگلہ دیش میں ہندو برادری پر مسلسل بڑھتے حملوں، مندروں کو نشانہ بنائے جانے، خواتین اور بچوں کے ساتھ غیر انسانی درندگی اور خوف کے ماحول میں زبردستی نقل مکانی کے خلاف اتوار کو عام آدمی پارٹی نے اتر پردیش کے تمام آٹھوں صوبوں میں بیک وقت ریاست گیر احتجاجی مظاہرے کیے۔ اس وسیع تحریک کے ذریعے پارٹی نے مرکز کی مودی حکومت کی شرمناک خاموشی اور مکمل طور پر ناکام خارجہ پالیسی کے خلاف سخت احتجاج درج کراتے ہوئے واضح کیا کہ ہندووں کے خون پر خاموشی اب ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ اسی سلسلے میں عام آدمی پارٹی کی جانب سے عزت مآب صدرِ جمہوریہ کے نام ایک یادداشت بھی پیش کی گئی۔ عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ کی ہدایت پر اتر پردیش کے تمام آٹھوں صوبوں میں ہونے والے ان احتجاجات کے دوران پارٹی کارکنوں نے مرکزی حکومت کے خلاف تیز و تند نعرے لگائے اور کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں کو منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، لیکن بھارتی حکومت نہ تو سفارتی دباو بنا رہی ہے اور نہ ہی بین الاقوامی فورمز پر کوئی ٹھوس قدم اٹھا رہی ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ مرکز کی یہ خاموشی ظالموں کے حوصلے بڑھا رہی ہے، جس کے باعث بنگلہ دیش کے حالات مزید خوفناک ہوتے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر سنجے سنگھ نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندووں کا قتلِ عام ہو رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ایک طرف ہندو مندر جلائے جا رہے ہیں اور بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف بھارتی حکومت کی خاموشی اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ اگر اب بھی مرکزی حکومت نے سخت اور فیصلہ کن اقدامات نہیں کیے تو عام آدمی پارٹی اس تحریک کو مزید وسیع اور شدید شکل دے گی۔ آپ کے رکنِ پارلیمان نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندووں پر ہونے والے خون خرابے، مندروں کی مسماری اور خواتین و بچوں پر جاری درندگی کے بیچ وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کوئی غلطی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ خاموشی اڈانی کے ہزاروں کروڑ روپے کے بجلی کاروبار کی قیمت پر خریدی گئی ہے۔ جس بنگلہ دیش میں ہندووں کو چُن چُن کر مارا جا رہا ہے، اسی بنگلہ دیش کو جھارکھنڈ سے ہندوستان کی بجلی اڈانی کے ذریعے سپلائی کی جا رہی ہے اور منافع کی گنگا بہہ رہی ہے۔ وزیر اعظم جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے بنگلہ دیش میں ہندووں پر ہونے والے مظالم کے خلاف ایک لفظ بھی بولا تو ان کے دوست کا کاروبار بند ہو جائے گا اور اربوں روپے کی ادائیگیاں رک جائیں گی۔ اسی خوف کے باعث ہندووں کا خون بہتے دیکھنا تو منظور ہے، مگر بولنا منظور نہیں۔سنجے سنگھ نے سخت لہجے میں کہا کہ وزیر اعظم جی! یہ ملک آپ کی ذاتی تجارت نہیں ہے اور نہ ہی ہندووں کی جان کسی کارپوریٹ کے منافع سے سستی ہے۔ آپ کو ملک کی عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں ہندووں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کھل کر بولنا ہوگا اور سخت ترین فیصلے لینے ہوں گے، کیونکہ اب یہ خاموشی کمزوری نہیں بلکہ سیدھے طور پر جرم میں شراکت بن چکی ہے۔ احتجاج کے دوران کارکنوں نے بنگلہ دیش کے ساتھ تمام تجارتی اور سفارتی تعلقات ختم کرنے، بھارت سے دی جانے والی بجلی کی سپلائی پر فوری پابندی لگانے اور ہندو اقلیتوں کی سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande